سوئی ہوئی دنیا میں ہیں بیدار ہزاروں
سوئی ہوئی دنیا میں ہیں بیدار ہزاروں
حق کے لیے جاتے ہیں سوئے دار ہزاروں
میں حق پہ ہوں اور اس کی گواہی ہیں یہ ظالم
اک سر ہے مرے دوش پہ تلوار ہزاروں
کس کس کو پلائے وہ کسے چھوڑ دے پیاسا
کچھ جام ہیں مے خانہ میں مے خوار ہزاروں
پھیلی جو خبر سیر کو گزرے گا ادھر سے
دل پکڑے ہوئے بیٹھے ہیں بیمار ہزاروں
جیسے ہی کہا دل کو ہوں میں بیچنے والا
شہروں میں سجائے گئے بازار ہزاروں
مظلوم کی خاطر ہیں قلم سارے اپاہج
ظالم کی حمایت میں ہیں اخبار ہزاروں
یہ صرف ترے حسن کے جادو کا اثر ہے
دیکھا تو ہوئے زیست سے بیزار ہزاروں
تھک ہار کے بیٹھا نہ مسافر یہ سفر میں
راہوں میں اٹھائی گئی دیوار ہزاروں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.