چشم نم سے کسی پہ ہنستا ہوں
چشم نم سے کسی پہ ہنستا ہوں
اور پھر اس نمی پہ ہنستا ہوں
خود کو اپنے ہی روبرو کر کے
اپنی اک اک کمی پہ ہنستا ہوں
ہنستے ہنستے بچھڑ گیا مجھ سے
اس کی زندہ دلی پہ ہنستا ہوں
اس کی خواہش تھی ہنستا دیکھے مجھے
سو میں ہر اک غمی پہ ہنستا ہوں
نا سمجھ تو نہیں ہے وہ اتنا
جانتا ہے اسی پہ ہنستا ہوں
شب کی دہلیز پر قدم رکھے
صبح کی روشنی پہ ہنستا ہوں
وصل لمحوں کے وجد میں آ کر
ہجر کی تیرگی پہ ہنستا ہوں
اپنی سادہ مزاجی کے غم میں
اس کی ہر دل لگی پہ ہنستا ہوں
اپنی مرضی سے جی نہیں سکتی
زیست کی بے بسی پہ ہنستا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.