بدن سمٹا ہوا اور دشت جاں پھیلا ہوا ہے
بدن سمٹا ہوا اور دشت جاں پھیلا ہوا ہے
سو تاحد نظر وہم و گماں پھیلا ہوا ہے
ہمارے پاؤں سے کوئی زمیں لپٹی ہوئی ہے
ہمارے سر پہ کوئی آسماں پھیلا ہوا ہے
یہ کیسی خامشی میرے لہو میں سرسرائی
یہ کیسا شور دل کے درمیاں پھیلا ہوا ہے
تمہاری آگ میں خود کو جلایا تھا جو اک شب
ابھی تک میرے کمرے میں دھواں پھیلا ہوا ہے
حصار ذات سے کوئی مجھے بھی تو چھڑائے
مکاں میں قید ہوں اور لا مکاں پھیلا ہوا ہے
Sabhi Rang Tumhare Nikle
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.