بدن چراغ نہیں ہیں محبتیں اپنی
بدن چراغ نہیں ہیں محبتیں اپنی
مگر یہ لو کو بڑھاتی ضرورتیں اپنی
تمام حق کے طرفدار چاروں خانے چت
کوئی سنبھال نہ پایا صداقتیں اپنی
بدل نہ لیں کہیں رستہ یہ آگ کی لپٹیں
ہمیں ہی راکھ نہ کر دیں یہ نفرتیں اپنی
اب اس سے روبرو ہونے میں کچھ نہیں رکھا
بلا کے نقش بناتی ہیں وحشتیں اپنی
سمیٹ اپنے ستاروں کو آسماں والے
بجھا کے چھوڑ گئیں جن کو حسرتیں اپنی
کدھر سے آتی ہے جانے یہ خواب ناک صدا
تو کم نہ ہوں گی کبھی کیا مسافتیں اپنی
Aakhiri Ishq Sabse Pahle Kiya
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.