اپنی چاہت کو مرے دکھ کے برابر کر دے
اپنی چاہت کو مرے دکھ کے برابر کر دے
یا مجھے دیکھ لے اس طرح کہ پتھر کر دے
یہ سمٹتی ہوئی دنیا یے بکھرتے ہوئے لوگ
انتہا کوئی تو ہر شے کی مقرر کر دے
کس کو دیکھوں کہ ترے نام کا نشہ اترے
کس کو چاہوں جو ترے سحر کو کمتر کر دے
موسم وجد میں جا کر میں کہاں رقص کروں
اپنی دنیا مری وحشت کے برابر کر دے
ایک کھٹکا مجھے رہتا ہے محبت میں صدا
اس کا کیا جب جسے چاہے مرا ہم سر کر دے
Aakhiri Ishq Sabse Pahle Kiya
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.