Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اپنے ہونے سے بھی انکار کئے جاتے ہیں

جلیل عالیؔ

اپنے ہونے سے بھی انکار کئے جاتے ہیں

جلیل عالیؔ

اپنے ہونے سے بھی انکار کئے جاتے ہیں

ہم کہ رستہ ترا ہموار کئے جاتے ہیں

روز اب شہر میں سجتے ہیں تجارت میلے

لوگ صحنوں کو بھی بازار کئے جاتے ہیں

ڈالتے ہیں وہ جو کشکول میں سانسیں گن کر

کل کے سپنے بھی گرفتار کئے جاتے ہیں

کس کو معلوم یہاں اصل کہانی ہم تو

درمیاں کا کوئی کردار کئے جاتے ہیں

دل پہ کچھ اور گزرتی ہے مگر کیا کیجے

لفظ کچھ اور ہی اظہار کئے جاتے ہیں

میرے دشمن کو ضرورت نہیں کچھ کرنے کی

اس سے اچھا تو مرے یار کئے جاتے ہیں

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے