نہ ہم کو آزمانا چاہیے تھا
نہ ہم کو آزمانا چاہیے تھا
تمہیں رشتہ بچانا چاہیے تھا
وہاں غصہ دکھا کر آ رہے ہو
جہاں پر مسکرانا چاہیے تھا
درختوں کو نہ کاٹا میں نے یوں بھی
پرندوں کو ٹھکانا چاہیے تھا
یہ پچھتاوا تو سورج کو رہے گا
سمندر سوکھ جانا چاہیے تھا
شکاری تاک میں بیٹھا ہوا تھا
مگر چڑیا کو دانہ چاہیے تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.