Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نہ ہم کو آزمانا چاہیے تھا

عمیر ثمر

نہ ہم کو آزمانا چاہیے تھا

عمیر ثمر

MORE BYعمیر ثمر

    نہ ہم کو آزمانا چاہیے تھا

    تمہیں رشتہ بچانا چاہیے تھا

    وہاں غصہ دکھا کر آ رہے ہو

    جہاں پر مسکرانا چاہیے تھا

    درختوں کو نہ کاٹا میں نے یوں بھی

    پرندوں کو ٹھکانا چاہیے تھا

    یہ پچھتاوا تو سورج کو رہے گا

    سمندر سوکھ جانا چاہیے تھا

    شکاری تاک میں بیٹھا ہوا تھا

    مگر چڑیا کو دانہ چاہیے تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے