اک جھلک کا فقط ظہور ہوا
اک جھلک کا فقط ظہور ہوا
آئنے کا غرور چور ہوا
اس سے ہوتا گیا قریب قریب
خود سے میں جتنا جتنا دور ہوا
ریزہ ریزہ ہوا ہوا تو ہوا
کچھ تو احساس برق طور ہوا
لفظ ہاتھوں میں میرے موم ہوئے
ذکر داؤد دور دور ہوا
راستہ تکتے بجھ گئیں آنکھیں
حاصل زندگی یہ نور ہوا
ظلم ڈھایا ہے اب رہائی نے
بے خطا تھا یہی قصور ہوا
بے وفائی نہ کی مگر کوثرؔ
کچھ تو تھا اس لیے وہ دور ہوا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.