اک آئنے کے سامنے رکھا چراغ کو
اک آئنے کے سامنے رکھا چراغ کو
میں چاہتا تھا چہرہ دکھانا چراغ کو
کل شب اداس روشنی اتنی بری لگی
میں نے اٹھا کے پھینک دیا تھا چراغ کو
خود سوزی کرتے دیکھ نہ پایا بجھا دیا
میں نے ہوا کی آنکھ سے دیکھا چراغ کو
ہم راز تیرگی وہی ہم راز روشنی
جس نے تمام زندگی پرکھا چراغ کو
تارا گرا ہے ٹوٹ کے بابرؔ زمین پر
یا میری سمت چاند نے پھینکا چراغ کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.