Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

حد امکاں سے آگے بھی کوئی امکان ہے صاحب

آسیہ اسلم آس

حد امکاں سے آگے بھی کوئی امکان ہے صاحب

آسیہ اسلم آس

MORE BYآسیہ اسلم آس

    حد امکاں سے آگے بھی کوئی امکان ہے صاحب

    مرا ہونا ہی میرے ہونے کا عنوان ہے صاحب

    ہوا کے ہاتھ میں سونپی ہے ہم نے ڈور سانسوں کی

    خود اپنے ہی تعاقب میں مرا زندان ہے صاحب

    پلٹ کر جب بھی دیکھا آئنہ ہی سامنے پایا

    میں اپنے ہی مقابل ہوں کڑا میدان ہے صاحب

    عجب سی روشنی ہے جو بصارت چھین لیتی ہے

    اندھیرا بھی بصارت کا عجب سامان ہے صاحب

    تمہارے ہجر کی بستی میں رہ کر یہ کھلا ہم پر

    مسافر کے لیے ہر راستہ ویران ہے صاحب

    وہ جس کو ڈھونڈنے نکلے ہو تم اب اپنے اندر سے

    تمہاری آسؔ کا وہ آخری امکان ہے صاحب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے