حد امکاں سے آگے بھی کوئی امکان ہے صاحب
حد امکاں سے آگے بھی کوئی امکان ہے صاحب
مرا ہونا ہی میرے ہونے کا عنوان ہے صاحب
ہوا کے ہاتھ میں سونپی ہے ہم نے ڈور سانسوں کی
خود اپنے ہی تعاقب میں مرا زندان ہے صاحب
پلٹ کر جب بھی دیکھا آئنہ ہی سامنے پایا
میں اپنے ہی مقابل ہوں کڑا میدان ہے صاحب
عجب سی روشنی ہے جو بصارت چھین لیتی ہے
اندھیرا بھی بصارت کا عجب سامان ہے صاحب
تمہارے ہجر کی بستی میں رہ کر یہ کھلا ہم پر
مسافر کے لیے ہر راستہ ویران ہے صاحب
وہ جس کو ڈھونڈنے نکلے ہو تم اب اپنے اندر سے
تمہاری آسؔ کا وہ آخری امکان ہے صاحب
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.