Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اے حسن یار شرم یہ کیا انقلاب ہے

جگر مراد آبادی

اے حسن یار شرم یہ کیا انقلاب ہے

جگر مراد آبادی

اے حسن یار شرم یہ کیا انقلاب ہے

تجھ سے زیادہ درد ترا کامیاب ہے

عاشق کی بے دلی کا تغافل نہیں جواب

اس کا بس ایک جوش محبت جواب ہے

تیری عنایتیں کہ نہیں نذر جاں قبول

تیری نوازشیں کہ زمانہ خراب ہے

اے حسن اپنی حوصلہ افزائیاں تو دیکھ

مانا کہ چشم شوق بہت بے حجاب ہے

میں عشق بے نیاز ہوں تم حسن بے پناہ

میرا جواب ہے نہ تمہارا جواب ہے

مے خانہ ہے اسی کا یہ دنیا اسی کی ہے

جس تشنہ لب کے ہاتھ میں جام شراب ہے

اس سے دل تباہ کی روداد کیا کہوں

جو یہ نہ سن سکے کہ زمانہ خراب ہے

اے محتسب نہ پھینک مرے محتسب نہ پھینک

ظالم شراب ہے ارے ظالم شراب ہے

اپنے حدود سے نہ بڑھے کوئی عشق میں

جو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے

وہ لاکھ سامنے ہوں مگر اس کا کیا علاج

دل مانتا نہیں کہ نظر کامیاب ہے

میری نگاہ شوق بھی کچھ کم نہیں مگر

پھر بھی ترا شباب ترا ہی شباب ہے

مانوس اعتبار کرم کیوں کیا مجھے

اب ہر خطائے شوق اسی کا جواب ہے

میں اس کا آئینہ ہوں وہ ہے میرا آئینہ

میری نظر سے اس کی نظر کامیاب ہے

تنہائی فراق کے قربان جائیے

میں ہوں خیال یار ہے چشم پر آب ہے

سرمایۂ فراق جگرؔ آہ کچھ نہ پوچھ

اب جان ہے سو اپنے لیے خود عذاب ہے

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے