اگر چبھتی ہوئی باتوں سے ڈرنا پڑ گیا تو
اگر چبھتی ہوئی باتوں سے ڈرنا پڑ گیا تو
محبت سے کبھی تم کو مکرنا پڑ گیا تو
تری بکھری ہوئی دنیا سمیٹے جا رہا ہوں
اگر مجھ کو کسی دن خود بکھرنا پڑ گیا تو
ذخیرہ پشت پر باندھا نہیں تم نے ہوا کا
کہیں گہرے سمندر میں اترنا پڑ گیا تو
وہ مجھ سے دور ہوتا جا رہا ہے رفتہ رفتہ
اگر اس کو کبھی محسوس کرنا پڑ گیا تو
تم اس رستے میں کیوں بارود بوئے جا رہے ہو
کسی دن اس طرف سے خود گزرنا پڑ گیا تو
بنا رکھا ہے منصوبہ کئی برسوں کا تو نے
اگر اک دن اچانک تجھ کو مرنا پڑ گیا تو
تمہاری ضد ہے عاصمؔ وہ نکھارے حسن اپنا
اگر اس کے لیے تم کو سنورنا پڑ گیا تو
Lafz Mehfooz Kar Liye Jaayen
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.