کسی کی شوخ ادائیں کرم سے بیگانہ
کسی کی شوخ ادائیں کرم سے بیگانہ
بنائے جاتی ہیں کم بخت دل کو دیوانہ
سمجھ رہے ہو مجھے کیوں حریف مے خانہ
یہ میری بزم ہے رندو یہ میرا پیمانہ
شراب خانے میں یہ کون تشنہ کام آیا
کہ جام رقص میں ہے جھومتا ہے مے خانہ
یہ انقلاب یہ ماحول یہ فضا کیا ہے
چمن میں آگ لگی پھنک رہا ہے ویرانہ
بکھر نہ جائے کہیں میکدے کا شیرازہ
سبو سے دیکھیے ٹکرا رہا ہے پیمانہ
تمہیں بھی کاش ہو فرصت تو آ کے سن جاؤ
ہے آج درد سے لبریز میرا افسانہ
یہ کیا مقام تمنا ہے تیرے ہندیؔ کا
نہ جذب و شوق نہ دیوانگی نہ فرزانہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.