ابھی سے لائے ہو کیوں دل کی راہ پر اس کو
ابھی سے لائے ہو کیوں دل کی راہ پر اس کو
بھٹکنے دینا تھا کچھ دن ادھر ادھر اس کو
وہ مشت خاک کہ اڑنے سے آشنا ہی نہ تھی
لگا دیے ہیں تمنا نے بال و پر اس کو
نہ جانے کب وہ مجھے چھوڑ کر چلا جائے
میں زندگی کی طرح کر چکا بسر اس کو
اس اختصار کی تفصیل کون دیکھے گا
بکھر گیا ہوں میں کتنا سمیٹ کر اس کو
نہ خواب ہی سے جگایا نہ انتظار کیا
ہم اس دفعہ بھی چلے آئے چوم کر اس کو
وہ جس کا نام بھی سننا ہمیں پسند نہ تھا
کیا ہے روز کے جھگڑوں نے معتبر اس کو
چلا گیا تھا وو کشتی میں بیٹھ کر تابشؔ
ہوا ہے شہر میں کیا اس کی کیا خبر اس کو
Agar Main Sher Na Kahta
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.