Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اب دم بخود ہیں نبض کی رفتار دیکھ کر

بسمل عظیم آبادی

اب دم بخود ہیں نبض کی رفتار دیکھ کر

بسمل عظیم آبادی

اب دم بخود ہیں نبض کی رفتار دیکھ کر

تم ہنس رہے ہو حالت بیمار دیکھ کر

سودا وہ کیا کرے گا خریدار دیکھ کر

گھبرا گیا جو گرمئ بازار دیکھ کر

اللہ تیرے ہاتھ ہے اب آبروئے شوق

دم گھٹ رہا ہے وقت کی رفتار دیکھ کر

دیتا کہاں ہے وقت پڑے پر کوئی بھی ساتھ

ہم کو مصیبتوں میں گرفتار دیکھ کر

آتے ہیں میکدے کی طرف سے جناب شیخ

سرگوشیاں ہیں لغزش رفتار دیکھ کر

غیروں نے غیر جان کے ہم کو اٹھا دیا

بیٹھے جہاں بھی سایۂ دیوار دیکھ کر

آتے ہیں بزم یاراں میں پہچان ہی گیا

مے خوار کی نگاہ کو مے خوار دیکھ کر

اس مدھ بھری نگاہ کی اللہ رے کشش

سو بار دیکھنا پڑا اک بار دیکھ کر

تم رہنمائے وقت سہی پھر بھی چند گام

چلنا پڑے گا وقت کی رفتار دیکھ کر

وقت سحر گزر گئی کیا کیا نہ پوچھیے

گردن میں ان کی سوکھے ہوئے ہار دیکھ کر

تلچھٹ ملا کے دیتا ہے رندوں کو ساقیا

ساغر پٹک نہ دے کوئی ہشیار دیکھ کر

بسملؔ کو کیا ہے چادر رحمت رسول کی

سائے میں لے ہی لے گی گنہ گار دیکھ کر

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have exhausted your 5 free content pages. Please Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے