Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نہ تو اب قیس بننا ہے نہ ہی فرہاد ہونا ہے

حامد علی

نہ تو اب قیس بننا ہے نہ ہی فرہاد ہونا ہے

حامد علی

MORE BYحامد علی

    نہ تو اب قیس بننا ہے نہ ہی فرہاد ہونا ہے

    نکل کر دشت ہجراں سے مجھے آباد ہونا ہے

    میں اکلوتا سہارا ہوں علیؔ ماں باپ کا سو اب

    تری یادوں کے سائے سے مجھے آزاد ہونا ہے

    غم غربت سے نکلوں گا تو سوچوں گا تسلی سے

    غم جاناں میں مجھ کو کس قدر برباد ہونا ہے

    عجب سی کشمکش میں ہوں پتا ہی اب نہیں چلتا

    کہاں اب شاد ہونا ہے کہاں ناشاد ہونا ہے

    میں جالبؔ کی غزل ہوں یا فرازؔ و فیضؔ کا مصرع

    مجھے منصورؔ بننا ہے مجھے بہزادؔ ہونا ہے

    عزاداروں سے یہ کہہ دو مسلسل جاگتے رہنا

    ابھی تاتار گزریں گے ابھی بغداد ہونا ہے

    شریفوں نے سجائی ہے سر بازار پھر محفل

    یقیناً آج پھر کوئی نیا اپرادھ ہونا ہے

    علیؔ اب قید خانے میں زباں کو رکھ نہیں سکتا

    لبوں کی توڑ کر بندش مجھے فریاد ہونا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے