نہ تو اب قیس بننا ہے نہ ہی فرہاد ہونا ہے
نہ تو اب قیس بننا ہے نہ ہی فرہاد ہونا ہے
نکل کر دشت ہجراں سے مجھے آباد ہونا ہے
میں اکلوتا سہارا ہوں علیؔ ماں باپ کا سو اب
تری یادوں کے سائے سے مجھے آزاد ہونا ہے
غم غربت سے نکلوں گا تو سوچوں گا تسلی سے
غم جاناں میں مجھ کو کس قدر برباد ہونا ہے
عجب سی کشمکش میں ہوں پتا ہی اب نہیں چلتا
کہاں اب شاد ہونا ہے کہاں ناشاد ہونا ہے
میں جالبؔ کی غزل ہوں یا فرازؔ و فیضؔ کا مصرع
مجھے منصورؔ بننا ہے مجھے بہزادؔ ہونا ہے
عزاداروں سے یہ کہہ دو مسلسل جاگتے رہنا
ابھی تاتار گزریں گے ابھی بغداد ہونا ہے
شریفوں نے سجائی ہے سر بازار پھر محفل
یقیناً آج پھر کوئی نیا اپرادھ ہونا ہے
علیؔ اب قید خانے میں زباں کو رکھ نہیں سکتا
لبوں کی توڑ کر بندش مجھے فریاد ہونا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.