ہم آشنائے رہبر و منزل تو ہیں مگر (ردیف .. س)
ہم آشنائے رہبر و منزل تو ہیں مگر
وہ لطف دے رہی ہے ہمیں گمرہی کہ بس
ہم ہی تھے سخت جاں کہ ترے غم میں جی لئے
ہر ہر نفس پہ دل نے یہ آواز دی کہ بس
ہر حکم آپ کا مرا ایمان ہے مگر
یہ ترک آرزو تھی تو ایسی کہی کہ بس
وعدے کی شب نہ آئے بہت ہی برا کیا
دل میں ہمارے اتنی حسیں بات تھی کہ بس
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.