چاند نکلا ہے کوئی میری نظر تو لاؤ
چاند نکلا ہے کوئی میری نظر تو لاؤ
کوئی آیا ہے ذرا عمر خضر تو لاؤ
نکل آئیں گے وہ احساس کی آواز پہ بھی
نالۂ نیم شبی میں وہ اثر تو لاؤ
شعلۂ زخم تمنا ابھی لو دینے لگے
رہ گیا ہو لہو کچھ دل میں اگر تو لاؤ
مشتری و مہ و مریخ تو کچھ دور نہیں
رہروو عزم سفر رخت سفر تو لاؤ
نظر آئے گا رگ سنگ میں حسن رخ دوست
پہلے لیکن ہنر آئنہ گر تو لاؤ
زندگی حسن عدم ہے کہ عدم حسن حیات
سب سمجھ جاؤ گے وہ ظرف نظر تو لاؤ
کسی زنجیر کی جھنکار بھی زنداں میں نہیں
زخم دل اشک لہو داغ جگر تو لاؤ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.