تو پتھر دل جسے کہتا بہت ہے
تو پتھر دل جسے کہتا بہت ہے
ہمارے سامنے رویا بہت ہے
اسے آنسو کا قطرہ مت سمجھنا
وہ تیری سوچ سے گہرا بہت ہے
وہ اس کو بھول جانا چاہتا ہے
وہ جس کے نام پہ تڑپا بہت ہے
اسے جھوٹے ہی اپنا کہنے والو
وہ اپنے پن سے اب ڈرتا بہت ہے
یہ جس کے نام کی محفل سجی ہے
اسے ہی اپنوں سے خطرہ بہت ہے
جسے جینے کی خواہش ہو وہ جی لے
ہمارے جیسوں کو مرنا بہت ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.