میں کر رہا ہوں جرائم قبول جانے دے
میں کر رہا ہوں جرائم قبول جانے دے
اسے کہو کہ مری ایک بھول جانے دے
جدا ہوئے تو کوئی اس کی زندگی نہ تری
بہر دوام ہی خوشبو کو پھول جانے دے
خطا معاف محبت کا واسطہ ہے تجھے
نہ دے مزید اذیت کو طول جانے دے
خفا نہ ہو مرا تیرے سوا نہیں کوئی
گناہ بھول مجھے کر قبول جانے دے
میں جانتا ہوں کہ بنتا نہیں مگر پھر بھی
جو ہو سکے تو مجھے بے اصول جانے دے
بطور حر تو میں چوکھٹ پہ آ گیا اس کی
اب اس کا بنتا ہے مثل بتول جانے دے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.