میری آہوں کی گھٹا چھائی تھی
میری آہوں کی گھٹا چھائی تھی
بے سبب دھند کی رسوائی تھی
کوئی تو بات مری بھی سن لے
خامشی زور سے چلائی تھی
کیوں جفاؤں کی صدائیں گونجیں
تو نے پائل ہی تو چھنکائی تھی
جس نے پورا مرے گیتوں کو کیا
وہ مرے درد کی شہنائی تھی
تو نے کیوں زہر پلایا مجھ کو
کیا مری بات میں سچائی تھی
آئنہ سے میں بھلا کیا کہتا
میری دشمن مری بینائی تھی
تو نہ تھا پر میں اکیلا تو نہ تھا
ساتھ میرے مری تنہائی تھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.