Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کے شاعر اور ادیب

کل: 7713

اردو شاعری کے بنیاد سازوں میں سے ایک، میر تقی میر کے ہم عصر

بے انتہا مقبول پاکستانی شاعر، اپنی رومانی اوراحتجاجی شاعری کے لئے مشہور

اردو میں طنز و مزاح کے سب سے بڑے شاعر ، الہ آباد میں سیشن جج تھے

عظیم اردو شاعر، 'سارے جہاں سے اچھا...' اور 'لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری' جیسے شہرہ آفاق ترانے کے خالق

اردو/ ہندوی کے پہلے شاعر، حضرت نظام الدین اولیا کے شاگرد اور ماہر موسیقی ، اپنی ’ پہیلیوں‘ کے لئے مشہور جو ہندوستانی لوک ادب کا حصہ ہیں، طبلہ اور ستار جیسے اہم ساز ایجاد کئے۔ ’ زحال مسکیں مکن تغافل‘ جیسی غزل لکھی جسے اردو/ ہندوی شاعری کا نقش اول کہا جاتا ہے

مقبول ترین اردو شاعروں میں سے ایک ، شاعری میں برجستگی ، شوخی اور محاوروں کے استعمال کے لئے مشہور

سب سے پسندیدہ اور مقبول پاکستانی شاعروں میں سے ایک ، اپنے انقلابی خیالات کے سبب کئی برس قید میں رہے

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، جنہوں نے جدید شاعری کے لئے راہ ہموار کی۔ اپنے بصیرت افروز تنقیدی تبصروں کے لئے معروف۔ گیان پیٹھ انعام سے سرفراز

ممتاز فلم ساز و ہدایت کار، فلم نغمہ نگار اور افسانہ نگار۔ مرزا غالب پر ٹیلی ویژن سیریل کے لئے مشہور۔ ساہتیہ اکادمی اوارڈ یافتہ

لکھنؤ کے سب سے گرم مزاج شاعر ، میر تقی میر کے ہم عصر ، مصحفی کے ساتھ چشمک کے لئے مشہور ، انہوں نے ریختی میں بھی شعر کہے اور نثر میں ’رانی کیتکی کی کہانی‘ لکھی

ممتاز ترین فکشن رائیٹر ، اپنے منفرد حکایتی اسلوب اور تقسیم کے تجربے کے تخلیقی بیان کے لیے معروف۔ مین بکر پرائز کے لیے شارٹ لسٹ کیے جانے والے پہلے اردو ادیب ۔

پاکستان کے اہم ترین جدید شاعروں میں شامل، اپنے غیر روایتی طور طریقوں کے لیے مشہور

ماہر لسانیات،میر تقی میر اور میر درد کے استاد

صوفی شاعر، میرتقی میر کے ہم عصر ، ہندوستانی موسیقی کے گہرے علم کے لئے مشہور

منٹو کے ہم عصر ، ترقی پسند تحریک سے وا بستہ ممتاز افسانہ نگار۔شدید رومان اور سماجی حقیقتوں کی کہانیاں لکھنے کے لیے معروف۔

میر انیس

1803 - 1874

لکھنؤ کے ممتاز ترین کلاسیکی شاعروں میں ۔ عظیم مرثیہ نگار

میر اثر

1735 - 1795

اہم کلاسیکی شاعر، خواجہ میر درد کے چھوٹے بھائی

میر حسن

1717 - 1786

مثنوی کے انتہائی مقبول شاعر- 'سحر البیان' کے خالق

اردو کے پہلے عظیم شاعر جنہیں ’ خدائے سخن ‘ کہا جاتا ہے

عظیم شاعر۔ عالمی ادب میں اردو کی آواز۔ خواص و عوام دونوں میں مقبول۔

اردو کے ممتاز ترین صاحب اسلوب نثر نگار اور شاعر، ’آب حیات‘ کے مصنف، اردو میں جدید نظم کی تحریک کے بانیوں میں شامل۔

غالب اور ذوق کے ہم عصر۔ وہ حکیم ، ماہر نجوم اور شطرنج کے کھلاڑی بھی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ مرزا غالب نے ان کے شعر ’ تم مرے پاس ہوتے ہو گویا/ جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا‘ پر اپنا پورا دیوان دینے کی بات کہی تھی

اٹھارہویں صدی کے بڑے شاعروں میں شامل، میرتقی میر کے ہم عصر

ہر حلقے میں پڑھے جانے والے مقبول ترین پاکستانی فکشن نویس اور سفرنامہ نگار۔ غیر معمولی ادبی حسن کی حامل تحریروں کے لیے معروف۔

میر تقی میر کے ہم عصر ممتاز شاعر، جنہوں نے ہندوستانی ثقافت اور تہواروں پر نظمیں لکھیں ، ہولی ، دیوالی اور دیگر موضوعات پر نظموں کے لئے مشہور

پطرس بخاری ماہر تعلیم ، انشائیہ نگار ، براڈکاسٹر اور پاکستان کے سفیر تھے۔ اردو ادب میں مزاح نگاری کے لئے مشہور۔

اٹھارہویں صدی کے ممتاز شاعر، میر تقی میر کے ہم عصر

اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر۔ جنوبی ہند کی قطب شاہی سلطنت کے بادشاہ

بنگالی مصنف اور شاعر، جو بنگال کی نشاۃ ثانیہ کے زمانے میں سرگرم تھے۔ ڈرامہ نگار، موسیقار، فلسفی، سماجی مصلح، اور مصور کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔ ادب میں نوبل انعام سے نوازے جانے والے واحد ہندوستانی مصنف۔

ناموراردو فکشن رائیٹر- شاہکار افسانوں کے خالق، جن میں 'ٹھنڈا گوشت' ، 'کھول دو' ، ٹوبہ ٹیک سنگھ'، 'بو' وغیرہ قابل ذکر ہیں

صائب تبریزی گیارہویں صدی ہجری کا مشہور غزل گو شاعر ہے۔ صفوی حکمرانوں کے یہاں ملک الشعراء کا خطاب حاصل کردہ۔ صائب تبریزی کو سبک ہندی کا بادشاہ شاعر بھی کہا جاتا ہے۔ وہ ایران سے ہندوستان مہاجرت کرکے کئی سال تک ہندوستان میں سکونت پذیر رہے اس کے بعد مکہ کا سفر کیا اور ایران لوٹ گئے۔ ان کی غزلوں میں فکر و تخیل پرواز کی بلا کی گیرائی و گہرائی نظر آتی ہے۔ اپنی تک گوئی اور سبک ہندی کی وجہ سے پوری دنیا میں جانے جاتے ہیں۔

اٹھارہویں صدی کے عظیم شاعروں میں شامل، میر تقی میر کے ہم عصر

شاہ نصیر

1756 - 1838

اٹھارہویں صدی کے ممتاز ترین شاعروں میں نمایاں

نئی اردو غزل کے اہم ترین پاکستانی شاعروں میں نمایاں

آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استاد اور ملک الشعرا۔ غالب کے ساتھ ان کی رقابت مشہور ہے

صوفی شاعر جن کی مشہور غزل ’خبر تحیر عشق ‘ بہت گائی گئی ہے

شاعری کے علاوہ اپنی خوش شکلی کے لئے بھی مشہور ہیں۔ کم عمری میں وفات پائی۔

رجحان ساز کلاسیکی شاعر۔ دہلی میں اردو شاعری کے فروغ کا بنیادی محرک

ممتاز مابعد جدید شاعر، 1996میں اچانک لاپتہ ہوگئے

بیسوی صدی کی اہم علمی شخصیت، مصنف، مترجم، ناول نگار، ڈرامہ نویس۔ لکھنؤ کی سماجی و تہذیبی زندگی کے رمز شناس

مقبول عام شاعر، زندگی اور محبت پر مبنی رومانی شاعری کے لیے معروف

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے