Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تیز ہو جاتا ہے خوشبو کا سفر شام کے بعد

کرشن بہاری نور

تیز ہو جاتا ہے خوشبو کا سفر شام کے بعد

کرشن بہاری نور

تیز ہو جاتا ہے خوشبو کا سفر شام کے بعد

پھول شہروں میں بھی کھلتے ہیں مگر شام کے بعد

اس سے دریافت نہ کرنا کبھی دن کے حالات

صبح کا بھولا جو لوٹ آیا ہو گھر شام کے بعد

دن ترے ہجر میں کٹ جاتا ہے جیسے تیسے

مجھ سے رہتی ہے خفا میری نظر شام کے بعد

قد سے بڑھ جائے جو سایہ تو برا لگتا ہے

اپنا سورج وہ اٹھا لیتا ہے ہر شام کے بعد

تم نہ کر پاؤگے اندازہ تباہی کا مری

تم نے دیکھا ہی نہیں کوئی شجر شام کے بعد

میرے بارے میں کوئی کچھ بھی کہے سب منظور

مجھ کو رہتی ہی نہیں اپنی خبر شام کے بعد

یہی ملنے کا سمے بھی ہے بچھڑنے کا بھی

مجھ کو لگتا ہے بہت اپنے سے ڈر شام کے بعد

تیرگی ہو تو وجود اس کا چمکتا ہے بہت

ڈھونڈ تو لوں گا اسے نورؔ مگر شام کے بعد

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے