Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تعجب یہ نہیں ہے غم کے ماروں کو نہ چین آیا

کنول ڈبائیوی

تعجب یہ نہیں ہے غم کے ماروں کو نہ چین آیا

کنول ڈبائیوی

MORE BYکنول ڈبائیوی

    تعجب یہ نہیں ہے غم کے ماروں کو نہ چین آیا

    تڑپنا دیکھ کر میرا ستاروں کو نہ چین آیا

    بڑھی بے تابئ دل جب تو بہنے ہی لگے آنسو

    مرے ہمراہ ان پنہاں ستاروں کو نہ چین آیا

    رہے گردش میں ساری رات میری بے قراری پر

    بڑے ہمدرد نکلے چاند تاروں کو نہ چین آیا

    ہمارے آشیاں تک بات رہ جاتی تو اچھا تھا

    جلا جب تک نہ سب گلشن شراروں کو نہ چین آیا

    کوئی بے خود ہوا بے تاب ہو کر رہ گیا کوئی

    نقاب حسن اٹھنے پر ہزاروں کو نہ چین آیا

    زمانے کے تغیر نے کیا برباد گلشن کو

    خزاؤں کو نہ چین آیا بہاروں کو نہ چین آیا

    تھپیڑے ان کو بھی کھانے پڑے امواج طوفاں کے

    مری کشتی کے باعث ہی کناروں کو نہ چین آیا

    غم دوراں غم جاناں غم عقبیٰ غم دنیا

    کنولؔ اس زندگی میں غم کے ماروں کو نہ چین آیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے