Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کچھ بجھی بجھی سی ہے انجمن نہ جانے کیوں

کنول ڈبائیوی

کچھ بجھی بجھی سی ہے انجمن نہ جانے کیوں

کنول ڈبائیوی

MORE BYکنول ڈبائیوی

    کچھ بجھی بجھی سی ہے انجمن نہ جانے کیوں

    زندگی میں پنہاں ہے اک چبھن نہ جانے کیوں

    اور بھی بہت سے ہیں لوٹنے کو دنیا میں

    بن گئے ہیں رہبر ہی راہ زن نہ جانے کیوں

    ان کی فکر اعلیٰ پر لوگ سر کو دھنتے تھے

    آج وہ پریشاں ہیں اہل فن نہ جانے کیوں

    جس چمن میں صدیوں سے تھا بہار کا قبضہ

    اس میں ہے خزاؤں کا اب چلن نہ جانے کیوں

    جن گلوں سے کانٹے خود دور بچ کے رہتے تھے

    چاک چاک ہیں ان کے پیرہن نہ جانے کیوں

    غیر کچھ تو کرتے ہیں پاس اور لحاظ اپنا

    اور دوست ہوتے ہیں خندہ زن نہ جانے کیوں

    غنچے غنچے کے تیور گلستاں میں بدلے ہیں

    ہم چمن میں رہ کر ہیں بے چمن نہ جانے کیوں

    جن کو اپنا سمجھے تھے کرتے ہیں کنولؔ ہم سے

    دوستی کے پردے میں مکر و فن نہ جانے کیوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے