کچھ ایسے رات اداسی کے پر نکلتے ہیں
کچھ ایسے رات اداسی کے پر نکلتے ہیں
کہ جیسے ٹوٹتی قبروں سے سر نکلتے ہیں
کبھی بھی آؤ ان آنکھوں میں کوئی خطرہ نہیں
نکلنے والے یہاں رات بھر نکلتے ہیں
پرے ہے سوچ سے ان بے گھروں کی در بدری
انہیں کھنگالو تو اندر سے گھر نکلتے ہیں
تمام راستے کرتے نہیں ہیں گھر کا ذکر
یہ لوگ ایسا بھی کیا سوچ کر نکلتے ہیں
درخت کرتے نہیں اس لئے امید وفا
وہ جانتے ہیں پرندوں کے پر نکلتے ہیں
Aavaazon Ka Raushandaan
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.