Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

خود اپنے جرم کا مجرم کو اعتراف نہ تھا

بیکل اتساہی

خود اپنے جرم کا مجرم کو اعتراف نہ تھا

بیکل اتساہی

خود اپنے جرم کا مجرم کو اعتراف نہ تھا

مگر یہ جذبہ بنام جنوں معاف نہ تھا

پگھل تو سکتا ہے لوہا نگاہ عزم تو ہو

یہ پہلے قید کی دیوار میں شگاف نہ تھا

حسد کی گرد تھیں بغض اور نفرت کی

مرے وجود پہ ایسا کوئی غلاف نہ تھا

الجھ رہے ہیں بہت لوگ میری شہرت سے

کسی کو یوں تو کوئی مجھ سے اختلاف نہ تھا

ترے جمال سے محفل میں اب سکون سا ہے

وگرنہ ذہن کسی کا کسی سے صاف نہ تھا

مرا نصیب کہ کشتی کنارے لگ نہ سکی

ہوا کا جھونکا تو ویسے مرے خلاف نہ تھا

جدید لہجہ یہ انداز کس لیے بیکلؔ

تجھے تو حسن روایت سے انحراف نہ تھا

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have exhausted your 5 free content pages. Please Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے