Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کون دیکھے گا بھلا اس میں ہے رسوائی کیا

جرأت قلندر بخش

کون دیکھے گا بھلا اس میں ہے رسوائی کیا

جرأت قلندر بخش

کون دیکھے گا بھلا اس میں ہے رسوائی کیا

خواب میں آنے کی بھی تم نے قسم کھائی کیا

اس کا گھر چھوڑ کے ہم تو نہ کسی در پہ گئے

پر سمجھتا ہے اسے وہ بت ہرجائی کیا

سنتے ہی جس کے ہوئی جان ہوا تن سے مرے

اس گلی سے یہ خبر باد صبا لائی کیا

واہ میں اور نہ آنے کو کہوں گا توبہ

میں تو حیراں ہوں یہ بات آپ نے فرمائی کیا

بہہ چلا چشم سے یکبار جو اک دریا سا

بیٹھے بیٹھے مجھے کیا جانے یہ لہر آئی کیا

حرف مطلب کو مرے سن کے بصد ناز کہا

ہم سمجھتے نہیں بکتا ہے تو سودائی کیا

شیخ جی ہم تو ہیں ناداں پر اسے آنے دو

ہم بھی پوچھیں گے ہوئی آپ کی دانائی کیا

کیفیت محفل خوباں کی نہ اس بن پوچھو

اس کو دیکھوں نہ تو پھر دے مجھے دکھلائی کیا

آج دم اپنا ٹھہرتا نہیں کیا جانیے آہ

مصلحت لوگوں نے واں بیٹھ کے ٹھہرائی کیا

بر میں وہ شوخ تھا اور سیر شب ماہ تھی رات

اپنے گھر کیا کہیں تھی انجمن آرائی کیا

پر گیا صبح سے وہ گھر تو یہی دھڑکا ہے

دیکھیں آج اس کا عوض لے شب تنہائی کیا

دیکھنے کا جو کروں اس کے میں دعویٰ جرأتؔ

مجھ میں جرأت یہ کہاں اور مری بینائی کیا

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے