Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا

مضطر خیرآبادی

علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا

مضطر خیرآبادی

علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا

تم اچھا کر نہیں سکتے میں اچھا ہو نہیں سکتا

عدو کو چھوڑ دو پھر جان بھی مانگو تو حاضر ہے

تم ایسا کر نہیں سکتے تو ایسا ہو نہیں سکتا

ابھی مرتے ہیں ہم جینے کا طعنہ پھر نہ دینا تم

یہ طعنہ ان کو دینا جن سے ایسا ہو نہیں سکتا

تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں

مرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا

دم آخر مری بالیں پہ مجمع ہے حسینوں کا

فرشتہ موت کا پھر آئے پردا ہو نہیں سکتا

نہ برتو ان سے اپنائیت کے تم برتاؤ اے مضطرؔ

پرایا مال ان باتوں سے اپنا ہو نہیں سکتا

مأخذ :
  • کتاب : Khirman (Part-1) (Pg. 90)
  • Author : Muztar Khairabadi
  • مطبع : Javed Akhtar (2015)
  • اشاعت : 2015

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے