Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور

بسمل صابری

حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور

بسمل صابری

حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور

لب کہتے ہیں کچھ اور انہیں ہوتا ہے گماں اور

جائیں تو کہاں جائیں محبت کے خریدار

ارباب سیاست نے تو کھولی ہے دکاں اور

معلوم نہیں ہے مرے صیاد کو شاید

گھٹتی ہے اگر سانس تو کھلتی ہے زباں اور

اب وعدۂ فردا میں کشش کچھ نہیں باقی

دہرائی ہوئی بات گزرتی ہے گراں اور

دیکھے گی جو اک پل میں مری آنکھ سے تجھ کو

ہو جائے گی دنیا تری جانب نگراں اور

لگ جاتی ہیں مہریں سی لبوں پر انہیں مل کر

ہوتا ہے مگر دل کے دھڑکنے کا سماں اور

کھلتی ہیں نہیں حشر کے دن بھی مری آنکھیں

شاید کہ مقدر میں ہے اک خواب گراں اور

ہم راکھ ہوئے اس پہ مگر آنچ نہ آئی

جلنے کا سماں اور جلانے کا سماں اور

گو عرض و طلب ایک حسیں شغل ہے لیکن

اس کھیل میں بڑھ جاتا ہے اندیشۂ جاں اور

معراج تکلم ہے خموشی مری بسملؔ

آتی ہی نہیں کوئی مجھے طرز فغاں اور

مأخذ :
  • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 373)
  • Author : Dr. Rashid Amjad
  • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
  • اشاعت : 2009

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے