Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

غم کا اظہار بھی کرنے نہیں دیتی دنیا

کنول ڈبائیوی

غم کا اظہار بھی کرنے نہیں دیتی دنیا

کنول ڈبائیوی

MORE BYکنول ڈبائیوی

    غم کا اظہار بھی کرنے نہیں دیتی دنیا

    اور مرتا ہوں تو مرنے نہیں دیتی دنیا

    سب ہی مے خانۂ ہستی سے پیا کرتے ہیں

    مجھ کو اک جام بھی بھرنے نہیں دیتی دنیا

    آستاں پر ترے ہم سر کو جھکا تو لیتے

    سر سے یہ بوجھ اترنے نہیں دیتی دنیا

    ہم کبھی دیر کے طالب ہیں کبھی کعبہ کے

    ایک مرکز پہ ٹھہرنے نہیں دیتی دنیا

    بجلیوں سے جو بچاتا ہوں نشیمن اپنا

    مجھ کو ایسا بھی تو کرنے نہیں دیتی دنیا

    مندمل ہونے پہ آئیں تو چھڑکتی ہے نمک

    زخم دل کے مرے بھرنے نہیں دیتی دنیا

    میری کوشش ہے محبت سے کنارہ کر لوں

    لیکن ایسا بھی تو کرنے نہیں دیتی دنیا

    دینے والوں کو ہے دنیا سے بغاوت لازم

    دینے والوں کو ابھرنے نہیں دیتی دنیا

    جس نے بنیاد گلستاں کی کبھی ڈالی تھی

    اس کو گلشن سے گزرنے نہیں دیتی دنیا

    گھٹ کے مر جاؤں یہ خواہش ہے زمانے کی کنولؔ

    آہ بھرتا ہوں تو بھرنے نہیں دیتی دنیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے