دن مہاجر ہے مرا رات فراقی ساقی
دن مہاجر ہے مرا رات فراقی ساقی
رشتۂ جاں مرے ہستی سے طلاقی ساقی
میرے ایمان کے پاؤں جلے جاتے ہیں جہاں
تیرا مے خانہ وہ صحرائے عراقی ساقی
حسن کی مے نہ دے مجھ کو ہوں بصیرت سے نڈھال
تاب نظروں میں نہیں اب مری باقی ساقی
ایک شاعر نے کہا شعر میں زاہد زاہد
ایک شاعر نے کہا شعر میں ساقی ساقی
مطمئن مجھ کو نہ کر جھوٹی تسلی دے کر
گر صراحی میں تری مے نہیں باقی ساقی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.