Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

عہد حاضر اک مشین اور اس کا کارندہ ہوں میں

انور سدید

عہد حاضر اک مشین اور اس کا کارندہ ہوں میں

انور سدید

عہد حاضر اک مشین اور اس کا کارندہ ہوں میں

ریزہ ریزہ روح میری ہے مگر زندہ ہوں میں

میں ہوں وہ لمحہ جو مٹھی میں سما سکتا نہیں

پل میں ہوں امروز و ماضی پل میں آئندہ ہوں میں

وہ جو مجھ کو پھینک آئے بھیڑیوں کے سامنے

کیا گلہ شکوہ کہ ان سے آپ شرمندہ ہوں میں

میرے لفظوں میں اگر تاب و توانائی نہیں

اے خدا کیوں دہر میں تیرا نمائندہ ہوں میں

میں جو کہتا ہوں سمجھتا ہی نہیں کوئی اسے

جیسے ملبے میں دبی بستی کا باشندہ ہوں میں

میرے چہرے پر منقش اس طرح تاریخ ہے

جیسے اک کہنہ عجائب گھر کا باشندہ ہوں میں

خاک ہوں لیکن سراپا نور ہے میرا وجود

اس زمیں پر چاند سورج کا نمائندہ ہوں میں

اس جہاں میں میں ہی مسجود ملائک تھا سدیدؔ

اس جہاں میں آج کے انساں سے شرمندہ ہوں میں

مأخذ :
  • کتاب : Prinda Safar men (Pg. 63)

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے