- کتاب فہرست 180745
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
ڈرامہ923 تعلیم347 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1655 صحت108 تاریخ3343طنز و مزاح603 صحافت201 زبان و ادب1140
خطوط725 طرز زندگی30 طب975 تحریکات268 ناول4282 سیاسی349 مذہبیات4770 تحقیق و تنقید6699افسانہ2672 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2017نصابی کتاب440 ترجمہ4189-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد60
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4880
- مرثیہ386
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت591
- نظم1211
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
ذکیہ مشہدی کی بچوں کی کہانیاں
طوطے کے بچے
اسکول میں چھٹیاں ہوتیں تو فرحان کبھی کبھی نانا کے یہاں آجاتے تھے۔ نانا گاؤں میں رہتے تھے۔ فرحان کو وہاں بہت مزہ آتا تھا۔ بڑا سا کھلا کھلا سرخ ٹائلوں والا گھر تھا۔ گھر کے پیچھے کافی وسیع باغ۔ سامنے بھی پھولوں کی کیاریاں تھیں۔ پھول آنکھوں کو کیسے بھلے
ایک بے سر پیر کی کہانی
اب یہ کیا بات ہوئی بھلا۔ بے سر پیر کی کہانی۔ کہیں کہانی کے بھی سر پیر ہوتے ہیں؟ ہوتے تو ہیں جو اس کہانی کے پاس نہیں ہیں ارے بھئی بے سر پیر کا مطلب ہوتا ہے ایسی کہانی جو بے تکی ہو۔ باتوں کے لئے بھی کہا جاتا ہے بے سر پیر کی باتیں۔ یعنی جو باتیں عجیب سی
دانیال، دادا اور جائسی
دہلی کا ایسٹ آف کیلاش کھاتے پیتے، پڑھے لکھے لوگوں کا علاقہ ہے۔ اسی سے ملا ہوا گڑھی۔ گڑھی میں جو لوگ رہتے ہیں وہ اتنے پیسے والے نہیں ہیں۔ زیادہ تعلیم یافتہ بھی نہیں ہیں۔ سنتے ہیں گڑھی پہلے ایک دیہات تھا۔ اب بھی دیہات جیسا ہی لگتا ہے۔ مکان بہت معمولی
مکھانے کی کھیر
تابش جب سے اپنے دوست راجن کے یہاں دیوالی کے موقع پر مکھانے کی کھیر کھا کر آئے تھے۔ اپنی ممی کے پیچھے پڑ گئے تھے۔ ممی آپ مکھانے کی کھیر کیوں نہیں بناتیں۔ بہت مزے دار ہوتی ہے۔ ’’اب ہر چیز ہر گھر میں نہیں بنتی۔ لیکن ایسی کوئی بڑی بات نہیں۔ بنا دوں گی۔‘‘
دانیال کا گھوڑا اور ننھی رکشا
دانیال جب چار سال کے تھے تو ان کی سالگرہ پر کسی نے ایک گھوڑا تحفے میں دیا تھا۔ یہ لکڑی اور چمڑے سے بنا ہوا خوب بڑا سا گھوڑا تھا۔ اتنا بڑا کہ ایک چار سال کا بچہ اس پر سوار ہو سکے۔ اس پر باقاعدہ زین کسی ہوئی تھی۔ رکابیں تھیں اور باگ بھی۔ گھوڑے کی ایال
دانیال اور چڑیا
چھ سال کے دانیال کو چڑیاں بہت اچھی لگتی تھیں۔ اڑتی، پھدکتی، چہچہاتی چڑیاں دیکھ کر وہ بہت خوش ہوتے۔ ہرے ہرے طوطے انہیں خاص طور پر اچھے لگتے تھے۔ ایک بار دانیال نے اپنی ممی سے کہا کہ وہ طوطا پالنا چاہتے ہیں۔ لیکن ممی نے بتایا کہ طوطے قیدی میں رہنا پسند
روٹی کیوں پھولتی ہے؟
دانیال جب ناراض ہوتے ہیں تو منہ پھُلا کر کونے میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ آج کل وہ چھٹیوں میں اپنی دادی کے پاس آئے ہوئے تھے۔ برسات کا موسم شروع ہوگیا تھا۔ بادل خوب امنڈ کر آئے۔ پھر بارش ہونے لگی۔ دانیال باہر جاکر بارش میں بھیگنا چاہتے تھے۔ دادی نے منع کردیا۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
-
