- کتاب فہرست 179970
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1378 قصہ / داستان1586 صحت105 تاریخ3273طنز و مزاح608 صحافت201 زبان و ادب1703 خطوط738
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4298 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6594افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب450 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4853
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
ذکیہ مشہدی کی بچوں کی کہانیاں
طوطے کے بچے
اسکول میں چھٹیاں ہوتیں تو فرحان کبھی کبھی نانا کے یہاں آجاتے تھے۔ نانا گاؤں میں رہتے تھے۔ فرحان کو وہاں بہت مزہ آتا تھا۔ بڑا سا کھلا کھلا سرخ ٹائلوں والا گھر تھا۔ گھر کے پیچھے کافی وسیع باغ۔ سامنے بھی پھولوں کی کیاریاں تھیں۔ پھول آنکھوں کو کیسے بھلے
ایک بے سر پیر کی کہانی
اب یہ کیا بات ہوئی بھلا۔ بے سر پیر کی کہانی۔ کہیں کہانی کے بھی سر پیر ہوتے ہیں؟ ہوتے تو ہیں جو اس کہانی کے پاس نہیں ہیں ارے بھئی بے سر پیر کا مطلب ہوتا ہے ایسی کہانی جو بے تکی ہو۔ باتوں کے لئے بھی کہا جاتا ہے بے سر پیر کی باتیں۔ یعنی جو باتیں عجیب سی
دانیال، دادا اور جائسی
دہلی کا ایسٹ آف کیلاش کھاتے پیتے، پڑھے لکھے لوگوں کا علاقہ ہے۔ اسی سے ملا ہوا گڑھی۔ گڑھی میں جو لوگ رہتے ہیں وہ اتنے پیسے والے نہیں ہیں۔ زیادہ تعلیم یافتہ بھی نہیں ہیں۔ سنتے ہیں گڑھی پہلے ایک دیہات تھا۔ اب بھی دیہات جیسا ہی لگتا ہے۔ مکان بہت معمولی
مکھانے کی کھیر
تابش جب سے اپنے دوست راجن کے یہاں دیوالی کے موقع پر مکھانے کی کھیر کھا کر آئے تھے۔ اپنی ممی کے پیچھے پڑ گئے تھے۔ ممی آپ مکھانے کی کھیر کیوں نہیں بناتیں۔ بہت مزے دار ہوتی ہے۔ ’’اب ہر چیز ہر گھر میں نہیں بنتی۔ لیکن ایسی کوئی بڑی بات نہیں۔ بنا دوں گی۔‘‘
دانیال کا گھوڑا اور ننھی رکشا
دانیال جب چار سال کے تھے تو ان کی سالگرہ پر کسی نے ایک گھوڑا تحفے میں دیا تھا۔ یہ لکڑی اور چمڑے سے بنا ہوا خوب بڑا سا گھوڑا تھا۔ اتنا بڑا کہ ایک چار سال کا بچہ اس پر سوار ہو سکے۔ اس پر باقاعدہ زین کسی ہوئی تھی۔ رکابیں تھیں اور باگ بھی۔ گھوڑے کی ایال
دانیال اور چڑیا
چھ سال کے دانیال کو چڑیاں بہت اچھی لگتی تھیں۔ اڑتی، پھدکتی، چہچہاتی چڑیاں دیکھ کر وہ بہت خوش ہوتے۔ ہرے ہرے طوطے انہیں خاص طور پر اچھے لگتے تھے۔ ایک بار دانیال نے اپنی ممی سے کہا کہ وہ طوطا پالنا چاہتے ہیں۔ لیکن ممی نے بتایا کہ طوطے قیدی میں رہنا پسند
روٹی کیوں پھولتی ہے؟
دانیال جب ناراض ہوتے ہیں تو منہ پھُلا کر کونے میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ آج کل وہ چھٹیوں میں اپنی دادی کے پاس آئے ہوئے تھے۔ برسات کا موسم شروع ہوگیا تھا۔ بادل خوب امنڈ کر آئے۔ پھر بارش ہونے لگی۔ دانیال باہر جاکر بارش میں بھیگنا چاہتے تھے۔ دادی نے منع کردیا۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
-
