- کتاب فہرست 189022
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
ڈرامہ1034 تعلیم393 مضامين و خاكه1556 قصہ / داستان1796 صحت110 تاریخ3626طنز و مزاح755 صحافت220 زبان و ادب1973 خطوط823
طرز زندگی29 طب1052 تحریکات298 ناول5047 سیاسی377 مذہبیات5058 تحقیق و تنقید7423افسانہ3028 خاکے/ قلمی چہرے289 سماجی مسائل121 تصوف2301نصابی کتاب562 ترجمہ4618خواتین کی تحریریں6300-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1492
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح214
- گیت68
- غزل1412
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1683
- کہہ مکرنی7
- کلیات695
- ماہیہ20
- مجموعہ5418
- مرثیہ404
- مثنوی896
- مسدس62
- نعت614
- نظم1326
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ202
- قوالی18
- قطعہ75
- رباعی304
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ72
- واسوخت29
ذکیہ مشہدی کی بچوں کی کہانیاں
طوطے کے بچے
اسکول میں چھٹیاں ہوتیں تو فرحان کبھی کبھی نانا کے یہاں آجاتے تھے۔ نانا گاؤں میں رہتے تھے۔ فرحان کو وہاں بہت مزہ آتا تھا۔ بڑا سا کھلا کھلا سرخ ٹائلوں والا گھر تھا۔ گھر کے پیچھے کافی وسیع باغ۔ سامنے بھی پھولوں کی کیاریاں تھیں۔ پھول آنکھوں کو کیسے بھلے
ایک بے سر پیر کی کہانی
اب یہ کیا بات ہوئی بھلا۔ بے سر پیر کی کہانی۔ کہیں کہانی کے بھی سر پیر ہوتے ہیں؟ ہوتے تو ہیں جو اس کہانی کے پاس نہیں ہیں ارے بھئی بے سر پیر کا مطلب ہوتا ہے ایسی کہانی جو بے تکی ہو۔ باتوں کے لئے بھی کہا جاتا ہے بے سر پیر کی باتیں۔ یعنی جو باتیں عجیب سی
دانیال، دادا اور جائسی
دہلی کا ایسٹ آف کیلاش کھاتے پیتے، پڑھے لکھے لوگوں کا علاقہ ہے۔ اسی سے ملا ہوا گڑھی۔ گڑھی میں جو لوگ رہتے ہیں وہ اتنے پیسے والے نہیں ہیں۔ زیادہ تعلیم یافتہ بھی نہیں ہیں۔ سنتے ہیں گڑھی پہلے ایک دیہات تھا۔ اب بھی دیہات جیسا ہی لگتا ہے۔ مکان بہت معمولی
مکھانے کی کھیر
تابش جب سے اپنے دوست راجن کے یہاں دیوالی کے موقع پر مکھانے کی کھیر کھا کر آئے تھے۔ اپنی ممی کے پیچھے پڑ گئے تھے۔ ممی آپ مکھانے کی کھیر کیوں نہیں بناتیں۔ بہت مزے دار ہوتی ہے۔ ’’اب ہر چیز ہر گھر میں نہیں بنتی۔ لیکن ایسی کوئی بڑی بات نہیں۔ بنا دوں گی۔‘‘
دانیال کا گھوڑا اور ننھی رکشا
دانیال جب چار سال کے تھے تو ان کی سالگرہ پر کسی نے ایک گھوڑا تحفے میں دیا تھا۔ یہ لکڑی اور چمڑے سے بنا ہوا خوب بڑا سا گھوڑا تھا۔ اتنا بڑا کہ ایک چار سال کا بچہ اس پر سوار ہو سکے۔ اس پر باقاعدہ زین کسی ہوئی تھی۔ رکابیں تھیں اور باگ بھی۔ گھوڑے کی ایال
دانیال اور چڑیا
چھ سال کے دانیال کو چڑیاں بہت اچھی لگتی تھیں۔ اڑتی، پھدکتی، چہچہاتی چڑیاں دیکھ کر وہ بہت خوش ہوتے۔ ہرے ہرے طوطے انہیں خاص طور پر اچھے لگتے تھے۔ ایک بار دانیال نے اپنی ممی سے کہا کہ وہ طوطا پالنا چاہتے ہیں۔ لیکن ممی نے بتایا کہ طوطے قیدی میں رہنا پسند
روٹی کیوں پھولتی ہے؟
دانیال جب ناراض ہوتے ہیں تو منہ پھُلا کر کونے میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ آج کل وہ چھٹیوں میں اپنی دادی کے پاس آئے ہوئے تھے۔ برسات کا موسم شروع ہوگیا تھا۔ بادل خوب امنڈ کر آئے۔ پھر بارش ہونے لگی۔ دانیال باہر جاکر بارش میں بھیگنا چاہتے تھے۔ دادی نے منع کردیا۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
-
