- کتاب فہرست 189022
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2089
ڈرامہ1034 تعلیم393 مضامين و خاكه1555 قصہ / داستان1793 صحت110 تاریخ3624طنز و مزاح755 صحافت220 زبان و ادب1973 خطوط823
طرز زندگی29 طب1052 تحریکات298 ناول5047 سیاسی377 مذہبیات5058 تحقیق و تنقید7421افسانہ3028 خاکے/ قلمی چہرے289 سماجی مسائل121 تصوف2303نصابی کتاب562 ترجمہ4621خواتین کی تحریریں6300-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1492
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح215
- گیت68
- غزل1412
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1686
- کہہ مکرنی7
- کلیات695
- ماہیہ20
- مجموعہ5421
- مرثیہ404
- مثنوی898
- مسدس62
- نعت614
- نظم1326
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ202
- قوالی18
- قطعہ75
- رباعی304
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ73
- واسوخت29
شکیل الرحمن کی بچوں کی کہانیاں
حضرت امیرخسرو اور بچےّ
بچو! تم حضرت امیر خسروؒ کو خوب جانتے ہو، انھیں اپنے ملک ہندوستان سے بےپناہ محبت تھی، یہاں کی ہر چیز کو پسند کرتے تھے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ امیر خسروؒ گھوڑے پر سوار کہیں سے آ رہے تھے۔ مہرولی پہنچتے ہی انھیں پیاس لگی، آہستہ آہستہ پیاس کی شدّت بڑھتی چلی
کچھوا اور مینڈک
ایک تھا کچھوا۔ اکثر سمندر سے نکل کر ریت پر بیٹھ جاتا اور سوچنے لگتا دنیا بھر کی باتیں، سمندر کے تمام کچھوے اسے اپنا گرو مانتے تھے اس لیے کہ وہ ہمیشہ اچھی اور مناسب مشورے دیا کرتا تھا۔ مثلاً ریت پر انڈے دینے کے لیے کون سی جگہ مناسب ہو گی، عموماً دشمن
ملا نصر الدین ہندوستان آئے
پیارے بچو! اگر آپ کو کہیں تیز چالاک آنکھیں اور سانولے چہرے پر سیاہ داڑھی لیے کوئی شخص نظر آ جائے تو رک جائیے اور غور سے دیکھئے، اگر اس کی قبا پرانی اور پھٹی ہوئی ہو، سر پر ٹوپی میلی اور دھبوں سے بھری ہوئی ہو اور اس کے جوتے ٹوٹے ہوئے اور خستہ حال تو یقین
ایک تھے بادشاہ بہادر شاہ ظفر
پیارے بچو! آؤ پہلے تمھیں یہ بتائیں کہ میں کون ہوں؟ ٹھیک کہا تم نے ہاں میں دنیا کے تمام بچوں کا بابا سائیں ہوں۔ سب سے پہلے میری پیاری سی نواسی جوہی نے مجھے بابا سائیں کہا اور پھر سب بچےّ جو میرے گھر کے آس پاس رہتے ہیں مجھے بابا سائیں کہنے لگے۔ سچ پوچھو
نام-دیو جی کا کنواں
جب تم سبھوں کا بابا سائیں کالج میں پڑھ رہا تھا، گرمی کی تعطیل میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ سیر کے لیے بیکانیر گیا، بس یونہی گھومنے پھرنے سیر پاٹے کے لیے۔ خوب سیر کی، بیکانیر کے نزدیک ’’کولاوجی’’ نام کا ایک گاؤں ہے، بابا سائیں کا ایک دوست گندھر اسی گاؤں
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2089
-
