- کتاب فہرست 182658
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1991
ڈرامہ927 تعلیم346 مضامين و خاكه1396 قصہ / داستان1608 صحت104 تاریخ3321طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1720 خطوط748
طرز زندگی30 طب985 تحریکات273 ناول4343 سیاسی355 مذہبیات4814 تحقیق و تنقید6636افسانہ2691 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب453 ترجمہ4273خواتین کی تحریریں5823-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1293
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1270
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1606
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4898
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت592
- نظم1218
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
شکیل الرحمن کی بچوں کی کہانیاں
حضرت امیرخسرو اور بچےّ
بچو! تم حضرت امیر خسروؒ کو خوب جانتے ہو، انھیں اپنے ملک ہندوستان سے بےپناہ محبت تھی، یہاں کی ہر چیز کو پسند کرتے تھے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ امیر خسروؒ گھوڑے پر سوار کہیں سے آ رہے تھے۔ مہرولی پہنچتے ہی انھیں پیاس لگی، آہستہ آہستہ پیاس کی شدّت بڑھتی چلی
کچھوا اور مینڈک
ایک تھا کچھوا۔ اکثر سمندر سے نکل کر ریت پر بیٹھ جاتا اور سوچنے لگتا دنیا بھر کی باتیں، سمندر کے تمام کچھوے اسے اپنا گرو مانتے تھے اس لیے کہ وہ ہمیشہ اچھی اور مناسب مشورے دیا کرتا تھا۔ مثلاً ریت پر انڈے دینے کے لیے کون سی جگہ مناسب ہو گی، عموماً دشمن
ملا نصر الدین ہندوستان آئے
پیارے بچو! اگر آپ کو کہیں تیز چالاک آنکھیں اور سانولے چہرے پر سیاہ داڑھی لیے کوئی شخص نظر آ جائے تو رک جائیے اور غور سے دیکھئے، اگر اس کی قبا پرانی اور پھٹی ہوئی ہو، سر پر ٹوپی میلی اور دھبوں سے بھری ہوئی ہو اور اس کے جوتے ٹوٹے ہوئے اور خستہ حال تو یقین
ایک تھے بادشاہ بہادر شاہ ظفر
پیارے بچو! آؤ پہلے تمھیں یہ بتائیں کہ میں کون ہوں؟ ٹھیک کہا تم نے ہاں میں دنیا کے تمام بچوں کا بابا سائیں ہوں۔ سب سے پہلے میری پیاری سی نواسی جوہی نے مجھے بابا سائیں کہا اور پھر سب بچےّ جو میرے گھر کے آس پاس رہتے ہیں مجھے بابا سائیں کہنے لگے۔ سچ پوچھو
نام-دیو جی کا کنواں
جب تم سبھوں کا بابا سائیں کالج میں پڑھ رہا تھا، گرمی کی تعطیل میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ سیر کے لیے بیکانیر گیا، بس یونہی گھومنے پھرنے سیر پاٹے کے لیے۔ خوب سیر کی، بیکانیر کے نزدیک ’’کولاوجی’’ نام کا ایک گاؤں ہے، بابا سائیں کا ایک دوست گندھر اسی گاؤں
join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1991
-
