- کتاب فہرست 180581
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1572 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1625 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4269 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4195خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1249
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4870
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
سعید احمد رفیق کے مضامین
فرائڈ کا نظریۂ ادب
نفسیات نسبتاً ایک نوعمر علم ہے۔ انیسویں صدی کے وسط تک نفسیات، فلسفہ کی ایک شاخ سمجھی جاتی تھی۔ اور اس کاطریقۂ کار، استدلالی اور مابعدالطبیعاتی تھا۔ ۱۸۷۹ء میں مشہور جرمن مفکر اور ماہر نفسیات وانٹ نے ایک نفسیاتی دارالتجربہ قائم کیا اور اس کے بعد اس علم
یونانیوں کے جمالیاتی افکار
(افلاطون تک) (میں جناب محمد اسلم قریشی۔ پروفیسر گورنمنٹ کالج کوئٹہ کا انتہائی ممنون اور شکرگزار ہوں کہ انہوں نے افلاطون کے صحیح جمالیاتی اور تنقیدی نظریات تک پہنچنے میں میری رہنمائی کی۔ افلاطون کے نظریۂ فن کے متعلق جو عام غلط فہمی پھیلی ہوئی
فن کے مقاصد
انسان کے ہر عمل کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے۔ یہ مقصد شعوری یا نیم شعوری طور پر بھی اس کے پیش نظر ہوسکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اسے اس مقصدکا شعور نہ ہو۔ بہرحال مقصد کی غیرموجودگی نفسیاتی طور پر ناممکن ہے۔ فن کی تخلیق بھی ایک ذہنی اور مادی عمل
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
