- کتاب فہرست 180840
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1365 قصہ / داستان1571 صحت104 تاریخ3290طنز و مزاح598 صحافت200 زبان و ادب1697 خطوط738
طرز زندگی30 طب973 تحریکات271 ناول4269 سیاسی351 مذہبیات4771 تحقیق و تنقید6536افسانہ2669 خاکے/ قلمی چہرے234 سماجی مسائل110 تصوف2010نصابی کتاب437 ترجمہ4222خواتین کی تحریریں5775-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1258
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1592
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4858
- مرثیہ387
- مثنوی738
- مسدس44
- نعت587
- نظم1206
- دیگر84
- پہیلی15
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
رشید جہاں کے افسانے
دلی کی سیر
یہ فریدآباد سے دہلی کی سیر کو آئی ایک عورت کے ساتھ ہوے واقعات کا قصہ ہے۔ ایک عورت اپنے شوہر کے ساتھ دہلی کی سیر کے لیے آتی ہے۔ دہلی میں اس کے ساتھ جوکچھ واقع ہوتا ہے واپس جاکر انہیں وہ اپنی سہیلیوں کو سناتی ہے۔ اس کے ساتھ ہوئے سبھی واقعات اتنے دلچسپ ہوتے ہیں کہ اس کی سہیلیاں جب بھی اس کے گھر جمع ہوتی ہیں، ہر بار اس سے دہلی کی سیر کا قصہ سنانے کے لیے کہتی ہیں۔
وہ
’’یہ ایک جسم بیچنے والی عورت کی کہانی ہے، وقت کے ساتھ جس کی ساری چمک دمک ختم ہو گئی ہے۔ وہ برص کی مریض ہے جس کی وجہ سے لوگ اس سے کتراتے اور نفرت کرتے ہیں۔ کوئی بھی اس سے بات تک کرنا پسند نہیں کرتا۔‘‘
ساس اور بہو
یہ ایک ایسی گھریلو عورت کی کہانی ہے، جو اپنی ساس کی ہر وقت شکایتیں کرتے رہنے کی عادت سے پریشان ہے۔ وہ اپنی طرف سے ساس کو خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ مگر ساس اس کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی کمی نکال ہی دیتی ہے۔ وہ کئی بار اپنے بیٹے سے دوسری شادی کرنے کے لیے بھی کہتی ہے۔ لیکن بیٹا اپنی ماں کی تجویز کو ہنس کر ٹال دیتا ہے۔
آصف جہاں کی بہو
یہ ایک ایسے کنبہ کی کہانی ہے جہاں لڑکی ہونے کی دعا مانگی جا رہی ہے۔ آصف جہاں ایک کلکٹر کی بیوی ہے۔ اس کے یہاں نو اولادیں ہوئی تھیں، پر ان میں سے بس ایک ہی جی سکی تھی۔ وہ چاہتی ہے کہ اس کے لیے اپنی نند کی بیٹی مانگ لے۔ مگر نند جب بھی امید سےہوتی ہےتو ہر بار لڑکا ہی ہوتا۔ پر اس بار خدا نے آصف جہاں کی سن لی اور اس کی نند کے یہاں بیٹی پیدا ہوئی۔
غریبوں کا بھگوان
’’کہانی ایک ایسی بیوہ کی ہے، جو اپنے بڑے بیٹے کی موت پر پاگل ہو جاتی ہے۔ اس کی بیماری میں وہ ہر کسی سے مدد مانگتی ہے مگر کوئی بھی اس کی مدد نہیں کرتا۔ وہ مندر جاتی ہے تو اسے وہاں سے نکال دیا جاتا ہے، کیونکہ وہ امیروں کا مندر ہوتا ہے۔ وہاں سے نکل کر وہ غریبوں کے بھگوان کی تلاش میں بھٹکنے لگتی ہے۔ مگر کوئی بھی اسے غریبوں کے بھگوان کا پتہ نہیں دیتا۔ آخر میں ایک ڈاکٹر اسے بتاتا ہے اس دنیا میں کون غریبوں کا بھگوان ہے۔‘‘
c
کہانی میں رمضان کے مہینے میں ہونے والے افطار کے ذریعے مسلم معاشرے کی طبقاتی تقسیم کو دکھایا گیا ہے۔ ایک طرف بھیک مانگنے والے ہیں جو مرنے سے پہلے پیٹ کی آگ کی وجہ سے جہنم جیسی زندگی جی رہے ہیں، دوسری طرف اچھی زندگی جینے والے ہیں جن کے پاس ہر طرح کی سہولتیں ہیں اور وہ دنیا میں جنت جیسا سکھ بھوگ رہے ہیں۔
چور
ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے جو ایک ایسے شخص کے بچہ کا علاج کرتی ہے جس نے دوپہر ہی اس کے گھر میں چوری کی ہے۔ کئی بار وہ سوچتی ہے کہ وہ پولس کو بلاکر اسے گرفتارکرا دے۔ اس کا فوجی بھائی بھی اسی وقت اس کے کلینک میں چلا آیا تھا۔ مگر اس نے یہ سوچ کر اس چور کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی کہ سماج میں ہر جگہ تو چور ہیں۔ آپ کس کس کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں۔
شیلا
جہاں موٹی، گوری، منجھولی شیلا میں اور کمزوریاں تھیں وہاں اس کی خوش مزاجی بھی شامل تھی، ’’ہاں‘‘ کے سوا دوسرا لفظ تو وہ جانتی ہی نہیں تھی اور، ’’نہیں‘‘ کااستعمال اس نے شاید کبھی کیا ہو۔ کسی کے ہاں ڈنر پر اگر کوئی مہمان آخری وقت پر انکار کردے تو جگہ بھرنے
میرا ایک سفر
’’یہ کہانی ہندستانی معاشرے میں مذہب اور ذات پات کی تفریق کو اجاگر کرتی ہے۔ وہ ریل کےتیسرے درجہ کے ڈبے میں سفر کر رہی تھی جب باتوں ہی باتوں میں ڈبے میں بیٹھی ہندو اور مسلمان عورتوں کے درمیان مذہب اور چھواچھوت کو لیکر جھگڑا شروع ہو جاتا ہے۔ کافی دیر تک وہ یوں ہی بیٹھی ہوئی جھگڑے کو دیکھتی رہتی ہے۔ مگر جب لڑتی ہوئی عورتیں اسے بھی اپنی زد میں لینے کی کوشش کرتی ہیں تو وہ اٹھ کر ایک ایسی دھمکی دیتی ہے کہ سبھی عورتیں آپس میں ایک دوسرے سے معافی مانگنا شروع کر دیتی ہیں۔‘‘
نئی بہوکے نئے عیب
لوآج صبح ہی سے انہوں نے پھرشورمچانا شروع کردیا۔ ’’اے بہن کیاپوچھتی ہو کہ تمہاری ساس کیوں خفا ہورہی ہیں۔ ان کی عادت ہی یہ ہے کہ ہرآئے گئے سب کے سامنے میرا رونا لے کربیٹھ جاتی ہیں۔ ساری دنیا کے عیب مجھ میں ہیں۔ صورت میری بری۔ پھوہڑمیں۔ بچوں کورکھنا
مجرم کون
ایک ایسے جج کی کہانی ہے، جو کسی اور کی بیوی سے محبت کر بیٹھتا ہے اور اسے اس کے شوہر سے الگ کر دیتا ہے۔ جب اس کی عدالت میں ایسا ہی ایک مقدمہ آتا ہے تو وہ عاشق کو تین سال کی سزا سنا دیتا ہے۔ اس پر سزا کاٹ رہے عاشق کی معشوقہ آگ لگا کر خودکشی لیتی ہے۔ ایک روز کلب میں بیٹھے ہوئے جج کے کچھ دوست اسی معاملے پر بحث کر رہے ہوتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اصلی مجرم کون ہے؟
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
-
