- کتاب فہرست 179430
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1992
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1603 صحت105 تاریخ3317طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4315 سیاسی355 مذہبیات4766 تحقیق و تنقید6656افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب458 ترجمہ4303خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1610
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ389
- مثنوی775
- مسدس41
- نعت580
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
قاضی عبد الستار کے افسانے
نیا قانون
کہانی لکھنؤ کے اس وقت کی داستان بیان کرتی ہے جب انگریز حکومت نے ایک نیا قانون بناکر اسے اپنی حکومت میں شامل کر لیا تھا۔ شہر کے نواب اور وزیر اعظم کوششوں کے بعد بھی انگریزی حکومت کو یہ قدم اٹھانے سے روک نہیں سکے تھے۔
رضو باجی
ایک عرصے بعد رض٘و باجی کا خط آتا ہے، وہی رض٘و جو پندرہ سال قبل ہمارے علاقے کا مشہور محرم دیکھنے آئی تھی۔ اسی محرم کے میلے میں ان کی ملاقات کہانی کے ہیرو سے ہوتی ہے اور وہیں ایک ایسا احساس پروان چڑھا کہ رض٘و باجی پھر تا عمر کسی کا نہ ہونے دیا۔ ماں کے جیتے جی کوئی رشتہ قبول نہیں کیا۔ باپ کے لقوہ زدہ ہو جانے پر رضو باجی نے ایک رشتہ قبول کیا لیکن عین نکاح سے قبل ان پر جنات آنے لگے اور وہ رشتہ بھی ٹوٹ گیا۔ اسکے بعد رض٘و باجی نے کبھی کسی رشتے کے بارے میں سوچنا بھی گوارہ نہ کیا۔ محرم میں ہوئے اس پہلے پیار کو وہ بھول نہیں سکی تھیں۔
پیتل کا گھنٹہ
کسی زمانے میں قاضی امام حسین اودھ کے تعلقدار تھے۔ علاقے میں ان کا دبدبہ تھا۔ کہانی کے ہیرو کی شادی کے وقت قاضی صاحب نے اسے اپنے ہاں آنے کی دعوت دی تھی۔ ایک عرصہ بعد ایک سفر کے دوران ان کے گاؤں کے پاس اس کی بس خراب ہو گئی تو وہ قاضی صاحب کے یہاں چلا گیا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ قاضی صاحب کا تو حلیہ ہی بدل گیا ہے، کہاں وہ عیش و عشرت اور اب قاضی صاحب پیوند لگے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ لیکن اپنی آن بان کا بھرم رکھنے اور مہمان کی تواضع کے لیے اپنا مہر لگا پیتل کا گھنٹہ بیچ دینا پڑتا ہے۔
مالکن
تقسیم ملک سے بہت سی زندگیوں میں عجیب و غریب تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ یہ کہانی ایک ایسے ہی زمیندار کی ہے جس کا پورا خاندان پاکستان ہجرت کر جاتا ہے لیکن حویلی کی مالکن نے ہجرت کرنے سے انکار کر دیا۔ مالکن حویلی کے اندر باہر کا کام اپنے وفادار چودھری گلاب سے کرا لیا کرتی تھیں۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ حویلی کی بچی کھچی شان و شوکت بھی جاتی رہی اور حویلی کھنڈر میں تبدیل ہو گئی۔ حویلی کی مالکن کو گزر بسر کرنے کے لیے سینے پرونے کا کام کرنا پڑا اور اس کام میں بھی چودھری گلاب مالکن کی مدد کرتا رہا۔ چودھری گلاب کی انسانی ہمدردی کو دنیا والے اپنی ہی نگاہ سے دیکھنے لگے۔
آنکھیں
یہ کہانی مغل شہنشاہ جہانگیر کی ہے، جس میں مغل سلطنت کی سیاست، بادشاہوں کی محفل اور ان محفلوں میں ملنے والوں کا تانتا ہے، انھیں ملنے والوں میں جہانگیر کی ملاقات ایک ایسی لڑکی سے ہوتی ہے جس کی آنکھیں انھیں مسحور کر دیتی ہیں۔ صایمہ بیگم کی آنکھیں ایسی ہیں کہ دیکھنے والے کے دل و دماغ میں براہ راست پیوست ہو جاتی ہیں اور بادشاہ جہانگیر کے ذہن پر ہر وقت ان آنکھوں کا تصور چھایا رہتا ہے۔
گرم لہو میں غلطاں
یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو ایک قتل کا گواہ تھا۔ اس نے شادی میں جب پہلی بار اس عورت کو دیکھا تھا تو وہ اسے پہچان نہیں سکا تھا، غور سے دیکھنے پر اسے یاد آیا کہ وہ عورت ایک بار ان کے گھر آئی تھی۔ تنہائی میں اس نے بڑے بھائی سے بات کی تھی اور پھر رات کے اندھیرے میں بڑے بھائی نے ایک بیگ کو ٹھکانے لگانے کے لیے کچھ لوگوں کو دیا تھا، اس بیگ میں لاش تھی۔ اس نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا مگر چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکا تھا۔
مجو بھیا
افسانہ ایک ایسے شخص کی داستان بیان کرتا ہے جس کا باپ پنڈت آنند سہائے تعلقدار کا نوکر تھا۔ اکلوتا ہونے کے باوجود باپ اسے رعب داب میں رکھتا تھا۔ باپ کے مرتے ہی اس کے پر نکل آئے اور وہ پہلوانی کے دنگل میں کود پڑا۔ پہلوانی سے نکلا تو گاؤں کی سیاست نے اسے گلے لگایا اور اس میں اس نے ایسے ایسے معرکے سر کیے کہ اپنی ایک الگ پہچان بنالی اور ساتھ ہی دوست و دشمن بھی، جنھیں ایک ایک کرکے اپنے راستے سے ہٹاتا چلا گیا۔
ٹھاکر دوارہ
کہانی ایک ایسے شخص کے گرد گھومتی ہے جو داناپور میں رہتا تھا اور ہولی کے دن ٹھاکردوارا میں عورتوں کا ناچ کراتا تھا۔ جب زمینداری ختم ہوئی تو اس کے ساتھ ہی بہت ساری چیزیں بھی ختم ہو گئیں۔ ختم ہونے والی چیزون میں ٹھاکر دوارا کا ناچ بھی تھا۔
نازو
کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جو صحنچی نہ ملنے کی وجہ سے اپنی بیوی نازو کو طلاق دے دیتا ہے۔ حالانکہ اس نے شادی ہی اسلیے کی تھی کہ وہ بہت خوبصورت تھی اور اسے لگتا تھا کہ اسی کے پاس صحنچی ہے، مگر اس کے جانے کے بعد جب اس نے پرانے صندوق کو کھلوا کر دیکھا تو صحنچی اسی صندوق میں سے بر آمد ہوئی ۔
ماڈل ٹاؤن
حسد کی آگ میں جلتے ایک نوجوان کی کہانی۔ نوجوان جانتا ہے کہ جس لڑکی سے وہ شادی کر رہا ہے وہ کسی اور سے محبت کرتی ہے اور نوکری کے لالچ میں اس لڑکی سے شادی کر لیتا ہے اور ماڈل ٹاون میں بس جاتا ہے۔ ایک روزاس نوجوان کی اس شخص سے ملاقات دوران سفر بس میں ہو جاتی ہے۔ وہ شخص آئندہ بھی اس سے ملاقات کا وعدہ کرتا ہے لیکن پھر کبھی ملاقات نہیں ہوتی۔ وہ نوجوان ہمیشہ اپنی بیوی کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ آگے کا حال جاننے کے لیے کہانی کو پڑھنا ہوگا۔
روپا
یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جس کا باپ رجب اودھ کی گڑھی کی سیاست میں کافی پھل پھول گیا۔ اس نے اپنے بیٹے حسین کو بھی اپنی طرح پہلوان بنایا تھا مگر اسے اپنے باپ کے دشمن منور کی بیٹی روپا سے محبت ہو جاتی ہے۔ اس محبت میں رجب کی جان چلی جاتی پے لیکن حسین روپا کو اپنے گھر لانے میں کامیاب رہتا ہے۔ روپا سے اس نے شادی تو کرلی تھی لیکن اس کے دل میں جگہ نہیں بنا سکا تھا کیونکہ روپا کو اس کا دبلا جسم پسند نہ تھا۔ پھر اچانک ایک ایسا واقعہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے روپا اس سے محبت کرنے لگتی ہے۔
نومی
یہ کہانی ایک ایسی لڑکی کے ارد گرد گھومتی ہے جسے اپنے انکل سے ہی محبت ہو جاتی ہے۔ یہ محبت تب شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے انکل کے یہاں ایک شادی میں جاتی ہے اور وہاں ان کی شخصیت کے مختلف خصوصیات کو دیکھتی ہے، لیکن وہ کھل کر ان سے اپنی محبت کا اظہار نہیں کر پاتی۔
دیوالی
میکوا ساہوکار کے یہاں کام کرتا ہے۔ وہ اپنے کام کو ایمانداری سے اور وقت سے پورا کر دیتا ہے۔ دیوالی کے موقع پر وہ گھر کی صفائی میں مصروف ہے، اسی درمیان اسے دیوار پر لگی لکشمی جی کی تصویر دکھائی دیتی ہے۔ تصویر دیکھ کر اسے اپنی منگیتر لکشمی کی یاد آتی ہے۔ وہ سارا دن اس کے خیالوں میں کھویا رہتا ہے۔ شام کو دیوالی کا پرشاد لینے کے بعد وہ مہتا جی کی خوشامد کر کے چار گھنٹے کی چھٹی مانگ لیتا ہے اور سائیکل پر سوار ہو کر اپنی منگیتر کے گاؤں کی طرف بھاگتا ہے لیکن وہاں جاکر اسے جس سچائی کا علم ہوتا ہے اس سے اس کے پاؤں تلے کی زمین ہی کھسک جاتی ہے۔
لالہ امام بخش
دیوی پرساد بخش نے اپنے اکلوتے بیٹے کا نام لالہ امام بخش اسلیے رکھا تھا کہ وہ محرم میں مانگی گئی دعاؤں کا نتیجہ تھا۔ چونکہ لالہ امام بخش کی پرورش بڑے لاڈ پیار سے ہوئی تھی اسلیے امام بخش سرکش ہو گیا تھا۔ دیوی پرساد کی موت کے بعد وہ اور بھی بے لگام ہو گیا اور اس کا ظلم گاؤں والوں پر بڑھتا گیا۔ گاؤں والوں نے مشورہ کرکے اسے پردھان بنا دیا۔ حالات اس وقت بدل گیے جب گاؤں میں ایک قتل ہوا اور قتل کے جرم میں لالہ امام بخش کو گرفتار کر لیا گیا۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1992
-
