- کتاب فہرست 179280
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1391 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت203 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4317 سیاسی355 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6658افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2066نصابی کتاب457 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5894-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1303
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1609
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت580
- نظم1195
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ75
- واسوخت26
بانو سرتاج کی بچوں کی کہانیاں
دو باپ دو بیٹے
حسن اور روہن کی دوستی گاؤں بھر میں مشہور تھی۔ بچپن کے دوست تھے، جوانی میں بھی دوستی قائم تھی۔ دونوں کے مزاج میں اتنی ہم آہنگی تھی کہ ایک چیز ایک کو پسند آتی تو دوسرا بھی اسے پسند کرنے لگتا۔ کسی بات سے ایک ناراض ہوتا تو دوسرا بھی اس طرف سے رخ پھیر
لوٹ کے بدھو گھر کو آئے!
راجستھان کے مہاراج پور میں ایک تاجر تھا رامنا وہ اونٹوں پر سامان لاد کر دوسرے شہروں میں لے جاتا، وہاں فروخت کرتا۔ اچھا خاصا منافع حاصل ہوتا۔ رامنا کئی برسوں سے تجارت کر رہا تھا۔ سفر اکثر ہی رات کو کیا جاتا۔ اونٹ سدھے ہوئے تھے۔ تمام رات چل کر وہ دوسرے
بن کانٹوں کا گلاب
وہ ایک چھوٹا سا، پیارا سا بچہ تھا۔ ایک دن وہ اسکول جانے کے لئے نکلا۔ ہوا دھیرے دھیرے بہہ رہی تھی۔ جب وہ اس جگہ سے گزرا جہاں کیاریوں میں بیسیوں قسم کے گلاب کھلے ہوئے تھے تو گلاب کی خوشبو نے اس کے قدم روک لئے۔ اس کے دل میں گلابوں کے قریب جانے کی زبردست
بڑا کون
وہ بڑی تیزی سے سپاٹ چکنی سڑک پر چلی جا رہی تھی۔ چل کیا رہی تھی۔ سمجھو اڑ رہی تھی۔ نئی نویلی۔ زرد سبز اور سفید رنگوں سے سجی۔ وہ ایک بس تھی۔ صبح کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ بس میں سوار مسافر نرم گدے والی سیٹوں پر نیم دراز میٹھی نیند کا مزا لے رہے
بلیک بورڈ کی کہانی
اسکاٹ لینڈ میں ایک استاد تھے۔ ان کا نام جیمس ولین (James Vilen) تھا۔ وہ جغرافیہ پڑھاتے تھے۔ انہیں جغرافیہ پڑھانے یعنی بچوں کو سمجھانے میں اکثر مشکل پیش آتی۔ بچے اس موضوع میں دلچسپی نہیں لیتے تھے۔ وہ کسی ایسے ذریعہ کی تلاش میں تھے جس سے پہاڑ، ندیاں،
ممی نا بولی
فاروق میاں گھر کی آنکھوں کا تارا تھے ددھیال، ننھیال دونوں کی پہلی اولاد۔ جتنا چاؤ ہوتا کم تھا۔ خیر سے تین سال کے تھے مگر خوب باتیں کرنے لگے تھے۔ لاڈ میں آتے تو تتلانے لگتے۔ ان کی ہر ہر ادا پر سب قربان جاتے۔ ان کی اکلوتی پھوپھی جان کہا کرتیں۔ ’’ہمارے
لو میں آیا
چین کے ہانگی چو شہر میں ایک مشہور ڈاکو رہتا تھا۔ اسے کسی نے نہیں دیکھا تھا مگر سب اسے ’لومیں آیا‘ کے نام سے جانتے تھے۔ وہ جہاں بھی ڈاکہ ڈالتا چوری کرتا وہاں کسی دیوار پر’’لو میں آیا‘‘ ضرور لکھ دیا کرتا تھا۔ رفتہ رفتہ اس کی سرگرمیاں اتنی بڑھی گئیں
سڑک اور پگڈنڈی
ایک گاؤں تھا۔ گاؤں کے قریب سے ایک سڑک گزرتی تھی جو گاؤں کو شہر سے جوڑتی تھی۔ سڑک پکی، ڈامر کی تھی۔ باقاعدہ پلان کر کے ماہر انجینئروں نے بنائی تھی۔ چھوٹی موٹریں، بیل گاڑیاں، تانگے، سائیکلیں سب اس پر سے گزرتی تھیں۔ سڑک کو اپنے کارآمد ہونے پر بہت غرور
کمسن شہید ۔ نانی گوپال
کالا پانی انڈمان میں ایک جزیرہ تھا جو خوفناک ماحول، زہریلی ہواؤں اور ان سے ہونے والے امراض کی وجہ سے کالا پانی کہلاتا تھا۔ وہاں جنگ آزادی کے وہ مجاہدین بھیجے جاتے تھے جو آزادی حاصل کرنے کی کوششوں کے دوران زندہ گرفتار کر لیے جاتے تھے۔ بعد میں خطرناک
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
