- کتاب فہرست 189004
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2089
ڈرامہ1034 تعلیم393 مضامين و خاكه1556 قصہ / داستان1793 صحت110 تاریخ3624طنز و مزاح755 صحافت220 زبان و ادب1973 خطوط823
طرز زندگی29 طب1052 تحریکات298 ناول5053 سیاسی377 مذہبیات5059 تحقیق و تنقید7425افسانہ3028 خاکے/ قلمی چہرے289 سماجی مسائل121 تصوف2303نصابی کتاب562 ترجمہ4619خواتین کی تحریریں6303-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1492
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح215
- گیت68
- غزل1413
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1682
- کہہ مکرنی7
- کلیات695
- ماہیہ20
- مجموعہ5426
- مرثیہ404
- مثنوی898
- مسدس62
- نعت614
- نظم1327
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ202
- قوالی18
- قطعہ75
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ73
- واسوخت29
ابوالکلام آزاد
مضمون 4
اشعار 2
بے خود بھی ہیں ہشیار بھی ہیں دیکھنے والے
ان مست نگاہوں کی ادا اور ہی کچھ ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کوئی نالاں کوئی گریاں کوئی بسمل ہو گیا
اس کے اٹھتے ہی دگرگوں رنگ محفل ہو گیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
غزل 3
کتاب 509
تصویری شاعری 1
ان شوخ حسینوں کی ادا اور ہی کچھ ہے اور ان کی اداؤں میں مزا اور ہی کچھ ہے یہ دل ہے مگر دل میں بسا اور ہی کچھ ہے دل آئینہ ہے جلوہ_نما اور ہی کچھ ہے ہم آپ کی محفل میں نہ آنے کو نہ آتے کچھ اور ہی سمجھے تھے ہوا اور ہی کچھ ہے بے_خود بھی ہیں ہوشیار بھی ہیں دیکھنے والے ان مست نگاہوں کی ادا اور ہی کچھ ہے آزادؔ ہوں اور گیسوئے_پیچاں میں گرفتار کہہ دو مجھے کیا تم نے سنا اور ہی کچھ ہے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2089
-
