- کتاب فہرست 180356
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1570 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4266 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6485افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2006نصابی کتاب424 ترجمہ4198خواتین کی تحریریں5756-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4864
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت587
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
آل احمد سرور کے مضامین
غزل کا فن
غزل کے سلسلے میں پہلے اپنے دو شعر پڑھنے کی اجازت چاہتا ہوں، غزل میں ذات بھی ہے اور کائنات بھی ہے ہماری بات بھی ہے اور تمہاری بات بھی ہے سرور اس کے اشارے داستانوں پر بھی بھاری ہیں غزل میں جوہرِ اربابِ فن کی آزمایش ہے یعنی غزل میں ذاتی
تنقید کیا ہے؟
مغرب کے اثر سے اردو میں کئی خوشگوار اضافے ہوئے، ان میں سب سے اہم فن تنقید ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ مغرب کے اثر سے پہلے اردو ادب میں کوئی تنقیدی شعور نہیں رکھتا تھا، یا شعروادب کے متعلق گفتگو، شاعروں پر تبصرہ اور زبان و بیان کے محاسن پر بحث نہیں ہوتی
ادب میں جدیدیت کا مفہوم
جدیدیت کا ایک تاریخی تصور ہے، ایک فلسفیانہ تصور ہے اور ایک ادبی تصور ہے۔ مگر جدیدیت ایک اضافی چیز ہے، یہ مطلق نہیں ہے۔ ماضی میں ایسے لوگ ہوئے ہیں جو آج بھی جدید معلوم ہوتے ہیں۔ آج بھی ایسے لوگ ہیں جو در اصل ماضی کی قدروں کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں اور
ترقی پسند تحریک پر ایک نظر
آزادؔ نے آب حیات میں میرؔ کا ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ ایک دفعہ ایک کرم فرما نے ان کے لیے ایک ایسے مکان کا انتظام کیا، جس کے ساتھ ایک بہت اچھا باغ بھی تھا۔ کچھ عرصے کے بعد انہوں نے جاکر دیکھا تو باغ کی طرف کی کھڑکیاں بند تھیں اور میرؔ فکر سخن میں مصروف۔
شاعری اور نثر کا فرق
اسلوبیات اور ساختیات کے ماہروں کا کہنا یہ ہے کہ NORM یا معمول نثر ہے اور شاعری دراصل اس معمول میں وقفے PAUSE یا انحراف DEVIATION کا نام ہے۔ ان لوگوں نے یورپ کی کلاسیکی شاعری، رومانی شاعری اور جدید شاعری کے جائزے اور اعداد وشمار کی مدد سے یہ ثابت کیاہے
فکشن کیا؟ کیوں؟ اور کیسے؟
ڈی ایچ لارنس کہتا ہے، ’’میں زندہ انسان ہوں اور جب تک میرے بس میں ہے میرا ارادہ زندہ انسان رہنے کا ہے۔ اس لیے میں ایک ناولسٹ ہوں اور چونکہ میں ناولسٹ ہوں اس لیے میں اپنے آپ کو کسی سنت، کسی سائنٹسٹ، کسی فلسفی، کسی شاعر سے برتر سمجھتا ہوں، جو زندہ انسان
لکھنؤ اور اردو ادب
ہر دور کا ادب اس دور کی تہذیب کا آئینہ ہوتا ہے، لکھنؤ کو اٹھارویں صدی کے وسط سے لے کر انیسویں صدی کے آخر تک شمالی ہند کی تہذیب میں ایک نمایاں درجہ حاصل رہا ہے۔ اورنگ زیب کی وفات کے بعد دہلی کی مرکزی حیثیت کمزور ہو گئی مگر اس کے باوجود اس مرکز میں
اردو تنقید ایک جائزہ
جناب وائس چانسلر صاحب، صدر شعبۂ ا ردو، مہمانان گرامی، خواتین و حضرات، حالیؔ کا مقدمہ شعر و شاعری ۱۸۹۳ء میں شائع ہوا۔ مقدمہ ہماری تنقید کا پہلا صحیفہ ہے۔ مقدمہ سے پہلے محمد حسین آزادؔ کے افکار اور سر سید کے تہذیب الاخلاق میں بعض مضامین کی اہمیت بھی
اقبال اور ان کے نکتہ چیں
اقبال کو اپنی زندگی میں جو مقبولیت حاصل ہوئی، وہ آج تک کسی شاعر کو نصیب نہ ہوئی۔ قبول عام کلام کی خوبی کا ضامن نہیں سمجھا جاتا مگرغور سے دیکھا جائے تو جمہور جس کے سر پر تاج رکھ دیتے ہیں، اس کی بادشاہت کی بنیاد بہت دیر پا عناصر پر ہوتی ہے۔ ڈاکٹر جانسن
اردو شاعری میں تصوف کی روایت
میلکام مگرج، مشہور انگریزی مصنف نے کہا ہے کہ ’’ہندوستان میں اب صرف وہی انگریز باقی رہ گئے ہیں جو تعلیم یافتہ ہندوستانی ہیں۔‘‘ اس پر لطف طنز سے یہ نکتہ ابھرتا ہے کہ مغربی اثرات کی کتنی ہی برکتیں رہی ہوں (اور یہ برکتیں مسلم ہیں) مگر ان کی وجہ سے اپنی تہذیبی
اقبال اور تصوف
رابرٹ فراسٹ کا زندگی سے جھگڑا ایک پریمی کا تھا۔ کچھ ایسا ہی جھگڑا اقبالؔ کا تصوف سے ہے۔ شاید عالم خوند میری نے جب اقبالؔ کے یہاں تصوف کی کشش اور اس سے گریز کا ذکرکیا تھا تو ان کے ذہن میں بھی یہی نکتہ تھا۔ بہر حال یہ طے ہے کہ اقبال کو تصوف سے دلچسپی ورثے
اردو اور ہندوستانی تہذیب
بظاہر اردو اور ہندوستانی تہذیب کے موضوع پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے تھی کیونکہ اردو ایک جدید ہندوستانی زبان ہے اور ہماری مشترک تہذیب کی ایک شاندار مظہر۔ لیکن ہوا یہ ہے کہ کچھ حلقوں کی طرف سے ایسے خیالات ظاہر کئے گئے ہیں جن کا اثر اب بھی بہت
مولانا آزاد کا اسلوب نثر
ڈاکٹر عابد حسین نے مولانا آزاد کے ادبی اسلوب کے تین دور قائم کئے ہیں، زعیمانہ، حکیمانہ اور ادیبانہ۔ سجاد انصاری نے کہاتھا کہ ’’اگر قرآن اردو میں نازل ہوتا تو اس کے لئے ابوالکلام کی نثر یا اقبالؔ کی نظم منتخب کی جاتی۔‘‘ حسرتؔ کو ابوالکلام کی نثر کے
میر کے مطالعے کی اہمیت
اردو شعر و ادب کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باوجود یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ابھی تک ہمارے بہت سے امامان فن کے کلیات و دواوین تو دستیاب ہی نہیں ہوتے یا ملتے ہیں تو بہت غلط ہیں اور ان کی کتابت و طباعت بھی قابل اطمینان نہیں ہے۔ اس لیے اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ
اقبال کی سیاسی فکر: ایک طائرانہ نظر
اقبال کی فکر میں ایک وحدت ہے۔ ان کی سیاسی فکر کو ان کے فلسفہ خودی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ انہوں نے ہندوستانی فلسفے، مغربی افکار اور انیسویں صدی کے اہم نظریات سے واضح اثر قبول کیا مگر ان کی فکر کا سر چشمہ اسلام اور اس کی اساس قرآن ہے۔ اقبالؔ ایک
اردوئے معلی
اردو ادب کی تاریخ میں جن رسالوں کے نام خصوصیت سے قابل ذکر ہیں، ان میں دل گداز، مخزن، اردوئے معلیّٰ، زمانہ، نگار اور اردو ممتاز ہیں۔ ان میں اردو ئے معلیّٰ کئی حیثیتوں سے سرفہرست ہے۔ یہ رسالہ مولانا حسرت نے اس وقت نکالا جب وہ بی اے کے امتحان سے فارغ ہی
ہماری مشترک تہذیب اور اردو غزل
ہماری مشترک تہذیب، اس برصغیر میں، جنوبی ایشیا، جنوبی مشرقی ایشیا اور مغربی اور وسطی ایشیا کی تہذیبوں کے اختلاط سے عبارت ہے۔ اس کی تشکیل میں ہندوستان کے قدیم باشندوں، دراوڑوں، آریا، وسط ایشیا کے غارت گر قافلوں اور جنوبی ساحل، مغربی ساحل اور شمال مغرب
غالب کی شاعری کی معنویت
میں حالیؔ کا بڑا احترام کرتا ہوں۔ حالیؔ ہمارے ایک بزرگ شاعر اور پہلے نقاد ہیں۔ حالیؔ کی متین، دھیمی اور باوقار لے نے بیسویں صدی کی کئی نسلوں کو متاثر کیا ہے۔ حالیؔ نے جو راہیں نکالیں آج وہ شاہراہیں ہیں اور ان پر ایک ہجوم رواں دواں ہے۔ حالیؔ نے ایک
ہندوستان کی جنگ آزادی میں اردو کا حصہ
آج کچھ حلقوں میں یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ اردو کا سارا سرمایہ بدیسی ہے، اس کے ادیبوں اور شاعروں کی نگاہیں وطن کے بجائے بیرونی ممالک پر لگی ہوتی ہیں۔ اس کے لکھنے اور پڑھنے والے ہندوستان سے محبت نہیں رکھتے، انھوں نے ہندوستان کی جنگ آزادی میں کوئی
حالی کے مقدمہ شعر و شاعری کی معنویت
حالیؔ کی بات ہو تو سجاد انصاری کایہ قول ضرور یاد آتا ہے کہ ’’میں اس حالیؔ کا قائل ہوں جس نے پہلے شاعری کی اور پھر مقدمہ لکھا۔‘‘ یعنی حالیؔ کی تنقید اس باشعور فن کار کی تنقید ہے جس نے اردو شاعری کو ایک نیا موڑ دیا۔ جو غالبؔ کا معتقد اور میرؔ کا مقلد
املا اور رسم خط
صدرِ محترم، مہمان خصوصی، ڈائرکٹر اردو تدریسی و تحقیقی مرکز، خواتین وحضرات! میں ڈائرکٹر اردو تدریسی و تحقیقی مرکز لکھنؤ کا ممنون ہوں کہ انھوں نے اس اہم سیمینار کے افتتاح کے لیے مجھے یاد کیا۔ جب سے یہ مرکز قائم ہوا ہے، اس نے قواعد زبان اور تدریس زبان
اردو شاعری میں خمریات
شعر و ادب میں شراب کا ذکر اس کثرت سے کیوں ہوتا ہے یہ تو اس پرانے گنہگار سے پوچھئے جو مست جام شراب ہونا کافی نہیں سمجھتا بلکہ غرق جام شراب ہونا چاہتا ہے۔ میں تو توبۃ النصوح قسم کا آدمی ہوں، دور سے تماشہ دیکھنے والا! میں آپ کو صرف یہ بتا سکتا ہوں کہ
اردو تنقید کے بنیادی افکار
اردو میں تنقید مغرب کی دین ہے، تنقیدی شعور اس سے پہلے بھی تھا اور ایک طرف یہ فن کاروں کے اشارات ونکات میں ظاہر ہوتا تھا، دوسری طرف تذکروں کی مدح و قدح میں۔ مگر اس کی ضرورت اسی وقت محسوس ہوئی جب ۱۸۵۷ء کے بعد زندگی کے تقاضوں نے ادب کارخ موڑ دیا اور ادب
اکبر کی ظرافت اور اس کی اہمیت
میرؔ یڈتھ کا قول ہے کہ ’’کسی ملک کے متمدن ہونے کی سب سے عمدہ کسوٹی یہ ہے کہ آیا وہاں ظرافت کا تصور اور کامیڈی (طربیہ) پھیلتے پھولتے ہیں یا نہیں۔ اور سچے طربیہ کی پرکھ یہ ہے کہ وہ ہنسائے مگر ہنسی کے ساتھ فکر کو بھی بیدا ر کرے۔’’ اردو ادب کا سرمایہ اس
اقبال اور نئی مشرقیت
اقبالؔ نے اپنے متعلق کہا ہے، کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق میں ابلۂ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند ابلۂ مسجد اس پرانی مشرقیت کی علامت ہے جو ایک جامد مذہبی تصور رکھتی ہے اور صرف عقائد و عبادات سے سروکار رکھتی ہے۔ معاملات کی اہمیت کو نظر انداز
حسرت کی عشقیہ شاعری: میری نظر میں
حسرتؔ کی شاعری کی قدروقیمت کو پرکھتے وقت ان کے ان اشعار کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے، شعر در اصل ہیں وہی حسرت سنتے ہی دل میں جو اتر جائیں غالبؔ و مصحفی و میرؔ و نسیم و مومن طبع حسرت نے اٹھایا ہے ہر استاد سے فیض ہے زبانِ لکھنؤ میں رنگِ دہلی
فانی: شخصیت اور شاعری
شوکت علی خاں فانیؔ بدایونی کی تاریخ پیدائش۱۳؍ ستمبر ۱۸۷۹ء ہے۔ ان کے انتقال کو اڑتالیس سال ہونے کو آئے۔ (تاریخ وفات ۲۲؍اگست ۱۹۴۱ء) اپنے دور میں فانیؔ خاصے مقبول تھے۔ ان کے انتقال کے بعد فانیؔ کے خلاف بھی بہت کچھ کہا گیا۔ آج فانیؔ کو کچھ لوگ بھولتے جارہے
ادب میں اظہار و ابلاغ کا مسئلہ
ادب بنیادی طور پر انسانی جذبات و احساسات کے اظہار سے عبارت ہے۔ یہ اظہار تخلیقی تحریک اور میلان کا نتیجہ ہے جس سے عام لوگ کم ہی بہرہ ور ہوتے ہیں۔ عام لوگ احساس رکھتے ہیں مگر اس کا اظہار نہیں کر سکتے۔ انھیں زبان وبیان پر وہ قدرت حاصل نہیں ہوتی جو اپنے
غزل کی زبان اور اقبال کی غزل کی زبان
اقبالؔ کا ایک شعر ہے، نہ زباں کوئی غزل کی نہ زباں سے باخبر میں کوئی دل کشا صدا ہو، عجمی ہو کہ تازی تو کیا واقعی غزل کی زبان کی کوئی خصوصیت نہیں ہے؟ کیا یہ صرف شاعرانہ زبان ہے یا اس شاعرانہ زبان کی کچھ خصوصیات بھی ہیں۔ اردو غزل کا سرمایہ خاصا
غالب اور جدید ذہن
چند سال ہوئے میں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایک تجربہ کیا تھا۔ یونیورسٹی کے تیس ایسے اشخاص سے جو اردو کے ادیب یا شاعر یا استاد ہیں، یہ فرمائش کی گئی تھی کہ وہ غالبؔ کے دس بہترین اشعار کی نشان دہی کریں اور اپنے انتخاب کے وجوہ بھی بیان کریں۔ اس تجربے
ادب میں قدروں کا مسئلہ
اقبال نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ’’جب شاعر کی آنکھیں کھلی ہوتی ہیں تو سماج کی آنکھیں بند ہوتی ہیں اور جب شاعر کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں تو سماج کی آنکھیں کھلتی ہیں۔‘‘ میں یہ قول ایک کلیے کی طرح نہیں دہرا رہا ہوں، بلکہ صرف اس بات پر زور دیناہے کہ شاعر
نظم کی زبان
زبان کا تصور سماج کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ فرد کی اپنی کوئی زبان نہیں ہوتی، وہ سماج سے ایک زبان سیکھتا ہے۔ تحریر کی اہمیت کے باوجود، زبان کی بنیاد بول چال میں ہے۔ زبان سیکھ لی جائے تو یہ ایک عادت بن جاتی ہے۔ زبان میں طبقوں کا فرق بھی ملتا ہے۔ اس میں
کچھ فراق کے بارے میں
فراق کی ایک رباعی ہے، ہر عیب سے مانا کہ جدا ہو جائے کیا ہے اگر انسان خدا ہو جائے شاعر کا تو بس کام یہ ہے ہر دل میں کچھ درد حیات اور سوا ہو جائے ہماری تنقید اب تک فنکار پر زیادہ توجہ کرتی رہی ہے، اس کے فن پر کم۔ فراق کی زندگی میں ان کی شخصیت
کچھ آتش کے بارے میں
اردو میں تنقید حالیؔ سے شروع ہوئی۔ حالیؔ نے جب ہوش سنبھالا تو فکر و فن پر لکھنؤ کا خاصا اثر تھا۔ یہاں تک کہ غالبؔ جیسا صاحبِ نظر ناسخؔ کے رنگ کی طرف کبھی کبھی للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ لیتا تھا۔ حالیؔ نے مجموعۂ نظم حال کے دیباچے میں، مسدس کے دیباچے
اقبال کا کارنامہ اردو نظم میں
نظم کی اصطلاح پہلے تو شاعری کے لئے استعمال ہوتی تھی اور اس کے مقابلے میں نثر کو رکھا جاتا تھا۔ پھر یہ غزل کے علاوہ شاعری کی دوسرے اقسام کے لئے استعمال ہونے لگی مگر جدید تناظر میں نظم وہ صنف سخن ہے جو نہ قصیدہ ہے نہ مثنوی، نہ مرثیہ، نہ شہر آشوب، نہ واسوخت،
میر میری نظر میں
آبِ حیات‘‘ میں آزادؔ نے میرؔ کے متعلق یہ روایت بیان کی ہے کہ میرؔ کے ایک دوست انہیں تبدیل آب و ہوا کے لئے اپنے ایک مکان میں لے گئے۔ کچھ دن کے بعد جب وہ آئے تو انہوں نے دیکھا کہ کمرے کی کھڑکیاں بند پڑی ہیں۔ انہوں نے کھڑکیاں کھولیں اور میرؔ سے کہا
نقادوں سے دس سوال
(۱) تنقیدی نگاری سے آپ کامقصد ادب کی تاریخ کو مرتب کرنا ہے یا ہمعصر ادب پر اثرانداز ہونا؟ (۲) کیا آپ کی دانست میں آپ کی تنقید سے ہمعصر ادب کوئی فائدہ پہنچا ہے؟ اور کیا ہمعصر لکھنے والوں نے کسی طور پر آپ کی تنقیدی فکر سے اثر قبول کیا ہے؟ (۳)
مجاز، رومانیت کا شہید
اپنے ہم عصروں میں جو مقبولیت مجازؔ کو حاصل ہوئی وہ کم لوگوں کے حصے میں آئی ہے۔ مجازؔ نے تقریباً پچیس سال شاعری کی۔ اس طویل عرصے کو دیکھتے ہوئے ان کا مجموعۂ کلام بہت مختصر ہے۔ ان کی بہترین نظمیں بیشتر ۱۹۳۵ء اور ۱۹۴۵ء کے درمیان کی ہیں۔ ادھر چار پانچ
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
