اگر فیض احمد فیض کی عظمت کا راز محض دار و رسن اور قفس و نشیمن جیسی کلاسیکی علامات کو سیاسی معنی پہنانے میں نہیں ہے، تو پھر ان کی شاعری کی بے پناہ مقبولیت اور سحر انگیزی کی اصل وجہ کیا ہے؟ شمس الرحمن فاروقی اس سوال کا جواب اردو غزل کی خالص کلاسیکی شعریات، یعنی 'کیفیت' اور 'مضمون آفرینی' میں تلاش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک فیض کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اردو غزل کی اس تہذیب کو زندہ کیا جس میں کنایاتی اندازِ بیان اور کیفیت کا گہرا عمل دخل تھا۔
فاروقی صاحب واضح کرتے ہیں کہ جہاں فیض نے کلاسیکی اسلوب کو کامیابی سے برتا ہے، وہاں دراصل کیفیت یا مضمون آفرینی کی کارفرمائی ہے۔ سیاسی، فلسفیانہ یا عشقیہ پہلو بذاتِ خود کسی شعر کی خوبی کی ضمانت نہیں دے سکتے جب تک کہ اس میں خالص شاعرانہ جوہر موجود نہ ہو۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے وہ حافظ شیرازی اور فیض کے اشعار کا موازنہ کرتے ہیں۔ حافظ کا شعر اپنے استعاروں اور پیکروں کی کثرت اور مضمون آفرینی کی وجہ سے ایک آفاقی معنویت اختیار کر لیتا ہے، جبکہ فیض کے بعض اشعار، جہاں وہ محض سیاسی بیانیے پر انحصار کرتے ہیں، 'Self-pity' (خود ترسی) کا شکار ہو جاتے ہیں۔
مثال کے طور پر، مخلص کاشی کا یہ شعر دیکھیے:
در روزگار عشق تو ماہم فدا شدیم
افسوس کز قبیلۂ مجنوں کسے نہ ماند
اس کے مقابلے میں فیض کا مصرعہ ہے:
تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم
دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے
فاروقی صاحب نشاندہی کرتے ہیں کہ مخلص کاشی کے یہاں مضمون آفرینی اور کنایاتی اندازِ بیان کی تمکنت نے شعر کو یادگار بنا دیا ہے، جبکہ فیض کے یہاں رعایتِ تضاد کے باوجود مضمون کی پیش پا افتادگی نے تمکنت کے بجائے خود ترسی پیدا کر دی ہے۔ جہاں حقیقی مضمون آفرینی ہوتی ہے، وہاں خود ترسی نہیں ہوتی۔
سب سے دلچسپ اور اہم دلیل یہ ہے کہ فیض کے بہت سے عمدہ اور مشہور ترین اشعار وہ ہیں جن میں کوئی روایتی یا رسومیاتی لفظ (جیسے شیخ، برہمن، دار، رسن) سرے سے موجود ہی نہیں۔ مثال کے طور پر فیض کے یہ لافانی اشعار دیکھیے:
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے
جدا تھے ہم تو میسر تھیں قربتیں کتنی
بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد
ان اشعار کی کامیابی کا راز کسی سیاسی علامت میں نہیں، بلکہ اس 'کیفیت' میں ہے جو کلاسیکی غزل کی جان ہے۔ فیض نے غزل میں کلاسیکی رنگ کو جس طرح زندہ کیا، وہ ہماری شاعری کا ایک روشن باب ہے۔ ان کی غزل میں اردو غزل کی وہ تہذیب بول رہی ہے جو قاری کے دل پر براہ راست اثر کرتی ہے۔ لہٰذا، فیض کا مطالعہ محض سیاسی یا ترقی پسند نظریات کے بجائے غزل کی اس عظیم تہذیب اور شعریات کے پس منظر میں ازسرنو کیا جانا چاہیے۔
