فیض احمد فیض کی دنیائے شعر میں داخل ہوں تو سب سے پہلے جو چیز قاری کو اپنی گرفت میں لیتی ہے، وہ ان کی مخصوص جمالیاتی فضا ہے۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جو خاص فیض کی اپنی ہے اور کسی دوسرے ہم عصر شاعر کے یہاں اس کی پرچھائیں تک نہیں ملتی۔ فیض کی شاعری میں شام، رات، شب، نیم شب، چاندنی، اور روئے حسیں محض پیکر (Images) نہیں ہیں، بلکہ یہ شدید نوعیت کے تخلیقی محرکات ہیں جو ایک سحر انگیز جمالیاتی فضا کی تشکیل کرتے ہیں۔
ان کی مشہور نظم 'سرودِ شبانہ' اس خالص شخصی اور موضوعی کیفیت کی بہترین مثال ہے۔ اس نظم میں رات کے پس منظر میں انتہائی لطیف امیجری کا استعمال کیا گیا ہے:
نیم شب، چاند، خود فراموشی
محفل ہست و بود ویراں ہے
پیکر التجا ہے خاموشی
بزم انجم فسردہ ساماں ہے
اس نظم میں مرئی (Visible) اور غیر مرئی (Invisible) عناصر کا ایک خوبصورت تضاد اور ملاپ ہے۔ 'نیم شب' اور 'چاند' مرئی ہیں، جبکہ 'خود فراموشی' غیر مرئی ہے۔ 'آبشار سکوت' اور 'چاندنی کی تھکی ہوئی آواز' جیسے استعارے حواس پر ایک خمار طاری کر دیتے ہیں۔ یہ منظریہ شاعری نہیں ہے، بلکہ ایک شدید جمالیاتی کیفیت کا اظہار ہے جو فیض کے رومانی ذہن کو سمجھنے کی کلید ہے۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ فیض کے یہاں یہ جمالیاتی کیفیت صرف ان کے ابتدائی مجموعے 'نقش فریادی' تک محدود تھی اور بعد میں انقلابیت کے غلبے سے دب گئی، لیکن یہ تاثر غلط ہے۔ یہ سلسلہ 'دست صبا' اور 'زنداں نامہ' سے ہوتا ہوا ان کے آخری مجموعوں تک چلتا ہے۔ ان کی سیاسی نظموں میں بھی یہی جمالیاتی رچاؤ موجود رہتا ہے۔ مثال کے طور پر 'زنداں کی ایک شام' ایک واضح سیاسی نظم ہے، لیکن اس کا آغاز کس قدر سحر انگیز ہے:
شام کے پیچ و خم ستاروں سے
زینہ زینہ اتر رہی ہے رات
یوں صبا پاس سے گزرتی ہے
جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات
اسی طرح ان کی نظم 'تنہائی' میں بھی ایک ذاتی اور انفرادی تجربہ وسیع تر آفاقی کیفیت میں ڈھل جاتا ہے۔ 'ڈھل چکی رات بکھرنے لگا تاروں کا غبار' اور 'اجنبی خاک نے دھندلا دیے قدموں کے سراغ' جیسے مصرعے پرانے الفاظ کی مدد سے نئی امیجری کا جادو جگاتے ہیں۔ فیض کا کمال یہ ہے کہ وہ انقلابی فکر کو جمالیاتی احساس سے الگ نہیں ہونے دیتے، بلکہ اپنے تخلیقی لمس سے دونوں کو آمیز کر کے ایک ایسی شعری لذت خلق کرتے ہیں جس کی نظیر عہد حاضر کی اردو شاعری میں نہیں ملتی۔
