میر تقی میر کی زبان کی سب سے غیر معمولی صفت اس کی بے تکلفی ہے۔ یہ صفت اگرچہ ان کے بعض ہم عصروں اور پیش روؤں میں بھی پائی جاتی ہے، لیکن میر کے یہاں اس کی کارفرمائی سب سے زیادہ اور منفرد ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ میر نے روزمرہ کی زبان کو ادبی سطح پر استعمال کیا، تو اس کا مطلب محض یہ نہیں کہ انہوں نے عام بول چال کے الفاظ کو جوں کا توں اپنا لیا، بلکہ انہوں نے زبان کے تمام امکانات کو برتنے کی جرات کی۔ میر الفاظ کے استعمال کے معاملے میں ہماری زبان کے سب سے زیادہ مہم جو (Adventurous) شاعر ہیں۔
اٹھارہویں صدی اور اس کے بعد کے شعرا، خاص کر داغ دہلوی اور لکھنوی دبستان کے نمائندوں نے نام نہاد 'فصاحت و بلاغت' پر بہت زور دیا۔ ان کے نزدیک روزمرہ کی پابندی اور محاورہ بندی ہی کمال فن تھا۔ لیکن میر کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اس نام نہاد فصاحت پر اتنا زور نہیں دیا۔ شیکسپیئر کی طرح میر بھی جو لفظ چاہتے ہیں، بے خوفی سے استعمال کر لیتے ہیں۔ انہوں نے اظہارِ مطلب کے لیے جس لفظ کو مناسب سمجھا، اسے بلا جھجک شعری قالب میں ڈھال لیا۔ یعنی انہوں نے 'بلاغت' (موثر ابلاغ) کو 'فصاحت' (زبان کی ظاہری درستی) پر مقدم سمجھا۔
میر کے معاصرین بھی زبان کے بارے میں بے تکلف تھے، لیکن صرف ایک حد تک۔ خواجہ میر درد کی زبان تقریباً ساری کی ساری محتاط ہے، سودا نے بھی میر کی طرح کھل کھیلنے کی ہمت نہ کی۔ یقین، تاباں اور قائم کے یہاں بھی زبان کے ساتھ وہ منھ زور اور بے روک ٹوک معاملہ نہیں ملتا جو میر کا انداز ہے۔ میر کسی لفظ سے گھبراتے نہیں، موقع پڑنے پر وہ دور دراز کے نامانوس الفاظ یا بالکل عوامی الفاظ بے خوفی سے استعمال کر لیتے ہیں۔
میر نے قدیم اردو، دکنی اور پوربی زبان کے ایسے الفاظ بھی کثرت سے استعمال کیے جنہیں شاہ حاتم جیسی شخصیات متروک قرار دے رہی تھیں۔ مثال کے طور پر ان کے یہ شعر دیکھیے:
مت کر خرام سر پہ اٹھالے گا خلق کو
بیٹھا اگر گلی میں ترا نقش پاکہوں
لائی آفت خانقاہ و مسجد اوپر وہ نگاہ
صوفیاں دیں سے گئے سب شیخ ایماں سے گئے
پہلے شعر میں 'کہوں' کو 'کہیں' کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ اسی طرح دوسرے شعر میں انہوں نے 'خانقاہ و مسجد اوپر' اور 'صوفی' کی جمع 'صوفیاں ' جیسے قدیم دکنی انداز کو بھی دہلی کی زبان میں زندہ رکھا۔
میر کی یہ بے تکلفی محض لاپروائی کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ یہ ایک سوچے سمجھے تخلیقی منصوبے کا حصہ تھی۔ انہوں نے زبان کی فطری اور نامیاتی (Organic) شکل کو اہمیت دی اور جہاں چاہا رسومیاتی تکلف کو بالائے طاق رکھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ میر کی زبان آج بھی ایک زندہ اور دھڑکتی ہوئی زبان محسوس ہوتی ہے، جس میں قواعد کی جکڑ بندیوں سے زیادہ اظہار کی سچائی اور شدت پائی جاتی ہے۔
