اردو زبان کی تشکیل میں فارسی اور پراکرت (ہندوستانی الاصل) الفاظ کا بنیادی کردار رہا ہے۔ لیکن ان دونوں لسانی دھاروں کو جس تخلیقی اور نامیاتی انداز میں میر تقی میر نے یکجا کیا، اس کی مثال اردو شاعری کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کے مطابق، میر کا خاص کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے زبان کو اس طرح بروئے کار لایا کہ روزمرہ کا اثر اور رنگ باقی رہے، لیکن دراصل اس میں بیش از بیش آزدیاں برتی گئی ہوں۔
غالب اور میر کے لسانی رویوں میں ایک بنیادی فرق ہے۔ غالب نے زبان کو جس طرح برتا، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ نفاست (Sophistication) کا وہ رنگ اختیار کرنا چاہتے ہیں جس میں پراکرت عناصر کی کارفرمائی کم سے کم ہو۔ غالب فارسی الفاظ میں پراکرت کا پیوند لگانے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، میر کے یہاں پراکرت الاصل الفاظ اور فارسی میں پراکرت کا پیوند والے الفاظ تمام اردو شاعروں کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔
میر نے فارسی میں پراکرت کا پیوند عام طور پر دو طرح سے لگایا۔ اول تو یہ کہ ترکیب فارسی کی ہو اور اس کی جمع اردو طریقے سے بنائی جائے۔ جیسے 'دل شکستوں'۔ دوم یہ کہ عطف یا اضافت والے فقرے کی جمع اردو قاعدے سے بنائی جائے، مثلاً 'آہِ ضعیفوں'۔ میر نے اس پیوند کاری میں غیر معمولی جدت سے کام لیا ہے۔ ان کا یہ شعر دیکھیے:
کوئی عاشقوں بتاں کی کرے نقل کیا معیشت
انہیں ناز کرتے رہنا انہیں جی نیاز کرنا
یہاں 'عاشقوں بتاں' کی تازگی اپنے رنگ میں شاہکار ہے۔ اردو قاعدے سے 'عاشق' کی جمع بنائی، پھر اسے فارسی جمع کے قاعدے کی اضافت میں بے علامت اضافت پرو دیا۔
ایک اور مثال دیکھیے جہاں میر نے فارسی اضافت کو اردو کے ساتھ ملا کر ایک نیا ذائقہ پیدا کیا:
تڑپنا بھی دیکھا نہ بسمل کا اپنے
میں کشتہ ہوں انداز قاتل کا اپنے
یہاں 'انداز قاتل کا اپنے' جیسی ترکیب استعمال کی گئی ہے۔ بعد کے تذکرہ نگاروں اور زبان پر کام کرنے والوں (جیسے حسرت موہانی) نے ایسی ترکیبوں کو غلط اور معیوب قرار دیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے مخلوط مرکبات نے میر کی زبان میں زندگی اور تحرک پیدا کر دیا تھا۔
یہ ہمارا المیہ ہے کہ ہم نے خالص اور ناخالص، اردو اور فارسی کے چکر میں پڑ کر اس طرح کے تمام اجتہادات کو ترک کر دیا جن کی بنا پر میر کا انداز قائم ہوا تھا۔ میر کا یہ لسانی ہتھکنڈا، جس میں فارسی اور پراکرت کا زندہ اور تخلیقی انضمام پایا جاتا ہے، زبان کی داخلی مشینیات کا وجدانی شعور مانگتا ہے، جو بعد کے 'پیروانِ میر' کو نصیب نہ ہو سکا۔
