ہندوستان کی ادبی تاریخ میں جب بھی بھاشا زبان کی قدامت، خالص پن اور شعری عظمت کا ذکر آتا ہے، تو شیر شاہ سوری کے عہد میں پیدا ہونے والے عظیم صوفی شاعر ملک محمد جائسی کا نام سرِ فہرست نظر آتا ہے۔ علامہ شبلی نعمانی کے مطابق، جائسی بھاکھا زبان کے ایسے زبردست اور قادر الکلام شاعر تھے کہ خود ہندوؤں میں آج تک ان کا ہمسر پیدا نہیں ہو سکا۔ ان کی سب سے مشہور اور لافانی تصنیف مثنوی ’پدماوت‘ ہے، جو آج بھی ہندوستان کے گھر گھر میں پڑھی اور سمجھی جاتی ہے۔
ادبی نقادوں اور نکتہ شناسوں کے نزدیک ’پدماوت‘ کی سب سے بڑی خوبی اس کی زبان کی قدرت اور خالص پن ہے۔ ہندوؤں میں آخری زمانے کے سب سے بڑے شاعر تلسی داس گزرے ہیں، جنہوں نے ’رامائن‘ کا بھاکھا میں ترجمہ کیا۔ لیکن جب زبان کی چاشنی اور قدرتِ بیان کا موازنہ کیا جائے تو ’پدماوت‘ کسی بھی طرح رامائن سے کم تر نظر نہیں آتی۔ بلکہ ایک حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ جائسی نے اپنی مثنوی میں عربی اور فارسی الفاظ سے مکمل گریز کیا ہے۔
اگر آپ ’پدماوت‘ کے صفحات پڑھتے چلے جائیں، تو آپ کو عربی یا فارسی کا کوئی لفظ بمشکل ہی ملے گا۔ اس کے برعکس، خالص ہندو مذہبی اور ثقافتی پس منظر میں لکھی گئی ’رامائن‘ بھی عربی اور فارسی کے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکی۔ رامائن کے بعض اشعار میں ’غریب نواز‘ اور ’غنی‘ جیسے الفاظ کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ اس وقت تک اسلامی زبانوں کے الفاظ مقامی لغت کا حصہ بن چکے تھے۔ ملاحظہ ہوں رامائن کے یہ اشعار:
رام انیک گریب نواجے
لوگ بر بر برو براجے
(غریب نواز)
گنی، گریب، گرام، نرناگر
پنڈت موٹے ملیں اوجاگر
(غنی، غریب)
اس کے برعکس، ایک مسلمان شاعر کا بھاشا کی اصل روح اور اس کے خالص الفاظ کو اس قدر مہارت سے برتنا کہ اس میں غیر ملکی الفاظ کی آمیزش نہ ہو، جائسی کے کمالِ فن کی دلیل ہے۔ ملک محمد جائسی نے پدماوت کے علاوہ بھی بھاکھا میں دو مزید مثنویاں تحریر کیں، جو ان کے خاندانی کتب خانوں کی زینت بنیں، مگر افسوس کہ وہ زیورِ طبع سے آراستہ نہ ہو سکیں۔ جائسی کی یہ ادبی خدمات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ مسلمانوں نے مقامی زبانوں کو نہ صرف اپنایا بلکہ ان کے ادبی معیار کو بامِ عروج تک پہنچایا۔
