رگھوپتی سہائے، جنہیں دنیا فراق گورکھپوری کے نام سے جانتی ہے، محض ایک شاعر نہیں تھے بلکہ ایک گہرے انسان دوست اور لبرل مفکر تھے۔ ۱۸۹۶ء میں گورکھپور میں پیدا ہونے والے فراق نے اپنی زندگی میں کئی اہم فیصلے کیے جنہوں نے ان کی شخصیت اور شاعری دونوں کو جلا بخشی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ انڈیا سول سروس (ICS) کے لیے منتخب ہو گئے تھے، لیکن انہوں نے برطانوی راج کی نوکری پر تحریک آزادی میں حصہ لینے کو ترجیح دی۔ وہ کانگریس میں شامل ہوئے، جواہر لال نہرو کے ساتھ کام کیا اور جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔
گوپی چند نارنگ کے مطابق، فراق کوئی روایتی سیاسی شاعر نہیں تھے، لیکن ان کا دل ایک چوٹ کھائے ہوئے انسان کا دل تھا۔ وہ ایک آزاد خیال اور لبرل شاعر تھے جو انسان دوستی کا گہرا احساس رکھتے تھے۔ فراق کا اپنا قول تھا کہ ان کی کوشش رہی ہے کہ وہ ایک بلند ترین، پاکیزہ ترین اور خیر و برکت سے معمور کائنات کی تخلیق کریں اور اپنی شاعری کے ذریعے انسانیت کو گہرا اور بلند بنائیں۔ ان کی شاعری میں جمالیاتی کیفیتوں کے ساتھ ساتھ دکھ اور کرب کی ایک دھیمی لہر ہمیشہ رواں دواں رہتی ہے جو آج کے انسان کی پیچیدہ زندگی اور اس کے درد سے ہم آہنگ ہے:
فراق دوڑ گئی روح سی زمانے میں
کہاں کا درد بھرا تھا مرے فسانے میں
اس دور میں زندگی بشر کی
بیمار کی رات ہو گئی ہے
دیکھ رفتار انقلاب فراق
کتنی آہستہ اور کتنی تیز
یہ ٹیس اور یہ درد ان کے یہاں دب دب کر ابھرتا ہے۔ انہوں نے زندگی کی حقیقتوں، موت کے سائے اور انسانی وجود کے المیے کو نہایت فلسفیانہ انداز میں پیش کیا۔ فراق کو ان کی ادبی خدمات پر ساہتیہ اکادمی، پدم بھوشن اور گیان پیٹھ جیسے اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا گیا۔ ۳ مارچ ۱۹۸۲ء کو ان کے انتقال سے اردو شاعری کا ایک سنہرا دور ختم ہو گیا، لیکن ان کی انسان دوستی اور دردِ حیات سے گندھی ہوئی آواز آج بھی فضائوں میں گونج رہی ہے۔
