تمہارا کیا واسطہ ہے
مرے مزاج کا یہ عجز و انکسار یہ درد
وفور کیفیت میں کم اداسیاں میری
کشادہ دست و تہی جیب سیر چشم و گدا
عطائے خاص ہیں واماندہ حالیاں میری
یہ درگزر کی صفت یہ فروتنی کی ادا
ہر اک سے رسم و رہ دل دہی نبھائے ہوئے
برہنہ پا ہوں کہ کانٹوں کا پاس خاطر ہے
خمیدہ پشت ہوں بار جہاں اٹھائے ہوئے
تمہارا واسطہ کیا ہے کہ پا بہ گل ہوں میں
وگرنہ کھیل ہی سارا بگڑ چکا ہوتا
گرا ہی دیتا یہ دیوار آب و رنگ اب تک
میں اس جہاں سے بہت پہلے لڑ چکا ہوتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.