Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میری ہولی

سیماب اکبرآبادی

میری ہولی

سیماب اکبرآبادی

MORE BYسیماب اکبرآبادی

    کاش حاصل ہو حقیقی زندگی کا ایک دن

    سر خوشی کا ایک لمحہ یا خوشی کا ایک دن

    کر دیا ہے شورش عالم نے دیوانہ مجھے

    ہے بساط دہر وحشت ناک ویرانہ مجھے

    اک نئی دنیا کی خلقت ہے مری تخئیل میں

    جو معاون ہو سکے انسان کی تکمیل میں

    اہتمام زندگی جس میں بطور خاص ہو

    آسماں جس کا محبت ہو زمیں اخلاص ہو

    کرشن کی آج یاد رفتہ محفل زندہ کرو

    برج و گوکل کی بجھی شمعوں کو تابندہ کرو

    خشکیٔ گنگ و جمن کی آبیاری کے لئے

    دعوتیں دو گوپیوں کو رنگ باری کے لئے

    از سر نو پھر مرتب ہو جہان رنگ و بو

    خار و خس سے پھر ہو پیدا کارخانے رنگ و بو

    پریم رس سے لاؤ بھر کر خوش نما پچکاریاں

    ہوں نئی دامان ہستی پر لطافت باریاں

    روح کی آواز ہم آئیں گے ساز و چنگ ہو

    جو پڑے انساں پہ وہ انسانیت کا رنگ ہو

    چاہتا ہوں یوں ہو رنگیں پیرہن اور ساریاں

    شست و شو سے بھی نہ زائل ہو سکیں گل کاریاں

    جسم کی صورت رہے دل بھی مسرت میں شریک

    روح آزادی بھی ہو جائے حقیقت میں شریک

    چاہتا ہوں گلشن کہنہ پر آ جائے شباب

    تنکا تنکا پھول ہو اور پتا پتا آفتاب

    تازگی وجہ شگفت خاطر عالم رہے

    میری دنیا میں ہمیشہ ایک ہی موسم رہے

    شاعر و صناع ہو فکر و خلش سے بے نیاز

    خواجہ و مزدور میں باقی نہ ہو کچھ امتیاز

    ارتقا کے رنگ سے لبریز جھولی ہو میری

    انقلاب ایسا کوئی ہو لے تو ہولی ہو میری

    مأخذ :
    • کتاب : Hindustan Hamara-1 (Pg. 255)
    • Author : Jan Nisar Akhtar
    • مطبع : B.K. Offset Navin Shahdara Delhi-110032 (2010)
    • اشاعت : 2010

    موضوعات

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے