سر شام
ڈوبتے سورج کو آخر ڈوبنا ہے
تم تو اس کے ساتھ مت ڈوبو مرے دل
ڈوب کر یہ منزلوں مارا تھکا ہارا مسافر
صبح دم
ایک فاتح کی طرح لوٹ آئے گا
تم اگر ڈوبے مرے دل
تم پہ ایسی رات ٹوٹے گی کہ تم
بھول جاؤ گے سحر کا نام بھی
ڈوبتے سورج نے شب کو ماہ و انجم سے منور کر دیا
اور تمھارے پاس کیا ہے
آرزوئیں حسرتیں لاکھوں تمنائیں کروڑوں خواہشیں
جو رہ گزار جہد میں تھک ہار کر گم ہو گئیں
جو آنسوؤں کے روپ میں دامان نسیاں پر بکھر کر کھو گئیں
آخر تمہارے پاس کیا ہے
مضمحل مغموم یادوں کے سسکتے زرد رو مدھم دئے
وقت کا جو ناتواں جھونکا بھی سہہ سکتے نہیں
تم نے تو اک چاند کیا کوئی ستارہ بھی تراشا ہے برائے تیرگی
تم تو مت ڈوبو مرے دل
تم تو مت ڈوبو ابھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.